ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 315 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 315

315 موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی تعلیم اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کو اجاگر کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ضرورت تو اس امر کی تھی کہ ان لوگوں کو سمجھایا جاتا کہ دنیا میں موجود مسلمانوں کی طرف دہشتگردی کا الزام غلط ہے۔اسلام ایک پر امن مذہب ہے اور امن و شانتی کی تعلیم دیتا ہے۔مسلمانوں کی طرف منسوب ہو کر دنیا کے امن کو بر باد کرنے والوں کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں۔آپ نے اسلام کو غلط سمجھ کر ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون بنائے ہیں۔ہم پر امن احتجاج کے طور پر اسلام کی حقیقی تعلیم عملی طور پر بھی اور علمی طور پر بھی آپ کو پہنچاتے ہیں۔اسلامی تعلیم کے خلاف مسلمانوں کا یہ رویہ اور عمل اسلام کو مزید نقصان پہنچانے کا موجب بنا اور ڈنمارک کے علاوہ دوسرے عیسائی ممالک میں بسنے والے اسلام دشمن عناصر نے (جیسا کہ آگے بیان ہوگا ) اسلام اور بانی اسلام کی مقدس ذات کے خلاف پہلے سے بڑھ کر گندا چھالا۔جبکہ مسلمانوں کے اس انبوہ کثیر کے مقابل پر ایک چھوٹی سی جماعت ایسی تھی جس کے ماننے والوں کے دل گو یہودیوں اور عیسائیوں کی غیر مذہبی، غیر اخلاقی ، غیر سماجی اور تہذیب سے گری ہوئی اس حرکت سے چھلنی تھے۔خون کے آنسورور ہے تھے۔جن کی آنکھیں نم تھیں مگر اس جماعت نے اس موقع پر نہایت صبر کا مظاہرہ کیا اور اسلامی تعلیم کے خلاف کوئی حرکت نہ کی اور وہ تھی جماعت احمدیہ۔جس کو پاکستان میں سرکاری طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا ہے اور بعض دیگر اسلامی ممالک میں بھی مسلمانوں کے ہاتھوں اس کو تکالیف اور مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔200 سے زائد ممالک میں بسنے والے اس جماعت کے فدائیوں کی طرف سے ردعمل اگر دیکھنے میں آیا تو یہ تا کہ انہوں نے اپنے عالمگیر امام حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ کی اقتداء اور رہنمائی میں ا۔اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلے سے بڑھ کر درود بھیجنا شروع کر دیا۔ii۔پہلے سے بڑھ کر قرآن کریم کی تلاوت کی طرف توجہ دی۔اس کے ترجمہ اور مفاہیم کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں میں اُتارنے میں مصروف ہو گئے۔iii۔قرآن کریم کی تعلیمات کا پہلے سے بڑھ کر پر چار کیا گیا۔iv۔اسلامی تعلیم پر پہلے سے بڑھ کر عمل پیرا ہونے کے لئے عہد و پیمان و منصو بے انفرادی طور پر بھی ، جماعت میں موجود تنظیمی سطح پر بھی اور سب سے بڑھ کر جماعتی سطح پر بنائے گئے۔۔دنیا بھر کے اخبارات، رسائل اور میگزینز بالخصوص یولینڈ پوسٹن کو مضامین و خطوط کے ذریعہ اپنا احتجاج ریکار ڈ کروایا گیا اور یہ بتلایا کہ اسلامی تعلیم کے مطابق دنیا میں آنے والے تمام انبیاء مقدس اور مطہر وجود ہیں۔جن کی عزت و احترام ہر مذہب والے پر فرض ہے۔vi۔دنیا بھر میں امن کے موضوع پر سیمینار سمپوزیم کا سلسلہ بھی جماعت احمدیہ کی طرف سے شروع ہوا۔جس کی تفصیل مختلف حصوں میں آئے گی۔