ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 314
314 حضور نے اپنے تاریخ ساز دور خلافت میں لندن میں بھی اور دنیا بھر کے مختلف ممالک کے دوروں کے دوران معاشرہ کے ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد جن میں سربراہان مملکت، وزرائے اعظم، وفاقی وصوبائی وزراء، شہروں کے میئر ز مختلف ممالک کے سفراء، حجز ، وکلاء اور مساجد کے امام وغیرہ شامل ہیں سے ملاقاتیں کیں۔مختلف ڈنرز میں شمولیت فرمائی۔امن کا نفرنسز اور سمپوزیم (Symposium) ہوئے۔بیوت الذکر کے سنگ بنیاد کے مواقع پیدا ہوئے پھر افتتاحی تقاریب منعقد ہوئیں۔جن میں حضور انور نے بڑی شان سے اسلام کا پیغام ان لوگوں تک پہنچایا۔اس کے علاوہ یہودیوں ، عیسائیوں، اور خود نام نہاد مسلمانوں کے ہاتھوں اسلام، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کی پیاری کتاب قرآن کریم کی جو تضحیک کی گئی۔اسلامی تعلیمات سے توہین آمیز سلوک ہوا۔یہ دریدہ دینی میں اس قدر بڑھے کہ بار بار اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہوئے اور توہین رسالت کے مرتکب۔ہر دفعہ حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے دفاع اور تعلیمات اسلامی کے حق میں خطبات دیئے۔ان ناپاک جسارت کرنے والوں کو حضور نے پکارا، اسلامی تعلیم سے آگاہ کیا ان کو بار بار تنبیہ کی کہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کے مرتکب نہ ہوں۔حضورانور نے جماعت کو پیش بندی کے لئے بعض اقدامات اٹھانے کی بھی تلقین فرمائی۔نیز پیارے امام کے ارشادات کی تعمیل میں دنیا بھر میں پھیلے احمدی احباب وخواتین نے اسلام کے دفاع میں قدم اٹھائے۔سیرۃ النبی کے جلسے منعقد ہوئے۔تقاریر ہوئیں، خطبات دیئے گئے۔امن کانفرنسز ہوئیں۔بین المذاہب کانفرنسز ہوئیں۔بروشر ز تیار ہو کر تقسیم ہوئے۔کتب کی اشاعت ہوئی۔ڈنمارک کے اخبارات میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور جماعت احمدیہ کا رد عمل 30 ستمبر 2005 ء کا دن افق پر ابھرنے والا عالمی تاریخ میں ایک سیاہ ترین دن تھا جب ڈنمارک کے ایک مشہوراخبار Nyllands Posten نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے 12 توہین آمیز کارٹون شائع کئے۔جس سے مسلمانوں کے جذبات بُری طرح مجروح ہوئے۔یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اسلامی دنیا میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔سرکاری و نجی املاک کو جلایا گیا۔سڑکیں بلاک کی گئیں۔ڈنمارک کے جھنڈے کو جلایا گیا۔بعض ممالک میں ڈنمارک کی ایمبیسیوں کا گھیراؤ کیا گیا۔مسلمانوں نے اپنی حکومتوں ނ ڈنمارک حکومت سے اپنے تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا۔بعض جگہوں پر ڈینیش مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ ہوا۔بعض نے اس اخبار پر پابندی لگانے کو کہا۔مسلمانوں کے یہ جذبات طبعی تھے کیونکہ ان کے آقا ومولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملہ تھا۔لیکن کسی مسلمان نے ذاتی طور پر یا کسی مسلمان تنظیم یا کسی جماعت نے اس