ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 313 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 313

313 آج ساری دنیا میں اسلام کو ایک جارحیت پسند اور دہشتگر دمذہب کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔معصوم انسانوں کی ناحق خونریزیوں ، خود کش بم دھماکوں اور دہشتگردی کے اکثر واقعات میں ایسے لوگ ملوث پائے جاتے ہیں جو خود کو مسلمان کہتے ہیں حالانکہ ان جاہل مسلمانوں کی مفسدانہ حرکتوں کا اسلام سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے۔بلکہ اس کے ذمہ دار وہ شر پسند اور فتنہ انگیز نام نہاد علماء اسلام ہیں جنہوں نے مسئلہ جہاد کے سمجھنے میں بڑی غلطیاں کھائی ہیں اور ناحق مخلوق خدا کو تلوار کے ساتھ ذبح کرنا دینداری کا شعار سمجھا انہوں نے اپنے دلوں کی کچھی کے باعث قرآن کریم کی بعض آیات متشابہات کی غلط تشریحات کرتے ہوئے اسلامی جہاد کو فساد کا قائم مقام بنادیا اور خودساختہ احمقانہ عقائد کو اسلام کی طرف منسوب کیا۔اور دوسری طرف مستشرقین کا عام طور پر یہ طریق رہا ہے کہ وہ بعض مسلمان علماء کی تفاسیر اور کتب سے ہی اقتباس لے کر شائع کرتے ہیں اور پھر ان کے حوالہ سے اسلام کی تضحیک اور اس کی مخالفت کو ہوا دیتے ہیں۔حال کے زمانہ میں اسلام کے ایسے نادان دوستوں میں سے ایک " جماعت اسلامی" کے بانی مولوی ابوالاعلی مودودی کا نام بہت نمایاں ہے۔مودودی صاحب نے قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی ناحق اور ناروا باتیں منسوب کیں جن کی بازگشت مغربی مصنفین اور معاندین اسلام کی تحریروں میں صاف سنائی دیتی ہے۔چند سال قبل 1999ء میں ایک مغربی مصنف David Marshall کی ایک کتاب A Quranic Study God Muhammad and the Unbelievers کے نام سے انگلستان میں Curzon Press میں شائع ہوئی ہے جس میں مصنف نے قرآن مجید کی مختلف آیات کو قر آن کریم کی محکم آیات کے منافی اپنی مرضی کے معنی پہناتے ہوئے اسلام کو خونی مذہب کے طور پر پیش کیا ہے اور لکھا ہے کہ گو یا مسلمانوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ کفار کے خلاف جنگ کریں یہاں تک کہ وہ یا تو اسلام قبول کر لیں یا قتل ہو جائیں۔اور اپنے اس موقف کی تائید میں اس نے خاص طور پر مولوی ابوالاعلیٰ مودودی کے اقتباسات کو نقل کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ گویا مولوی مودودی صاحب ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے قرآن کے پیغام کو صیح طور پر سمجھا ہے۔آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں اور آپ کی نمائندگی میں آپ کے مقدس خلیفہ حضرت مرزا احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دین کے نام پر تلوار اٹھانے کے خیال کو دور کرنے کی عظیم الشان مہم کا علم اپنے ہاتھوں میں لئے خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کے ساتھ نہایت کامیابی و کامرانی کے ساتھ قرآن وحدیث کی تعلیمات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت کے حوالہ سے دنیا بھر میں اسلام کے پرامن پیغام کی اشاعت کے حقیقی جہاد میں مصروف ہیں۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دور خلافت کے آغاز سے ہی اس طرف خصوصی توجہ فرمائی اور بارہا اپنے خطبات وخطابات میں اپنوں اور غیروں کے سامنے اسلام کی امن کی تعلیم اور جہاد کی حقیقت کو آشکار فرمایا ہے اور احباب جماعت کو بھی اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اسلام کے امن اور سلامتی کے پیغام کو دنیا میں پھیلائیں۔