ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 309 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 309

309 پھر 1993ء کے آغاز پر انسانی ہمدردی ، رواداری، ایک دوسرے کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے اور مذہبی رہنماؤں سے عزت و احترام سے پیش آنے کے حوالہ سے ایک تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جو آئندہ کے لئے رہنما اصول کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔اس میں حضور نے جولائحہ عمل تمام دنیا کے سامنے رکھا۔وہ درج ذیل امور پر مشتمل تھا۔۔حکومتوں کے سربراہوں ، دانشوروں کو اہل علم و اہل قلم دوست سارا سال محبت و پیار کو اپنانے کے خطوط کے ذریعہ درخواست کریں۔ii- بچوں کی زبان دل پر زیادہ اثر رکھتی ہے اس لیے بچے بھی خطوط لکھیں۔iii۔آپس کی نفرتیں دُور کرنے کے لیے حکومتیں معاہدے کریں۔۱۷- میثاق مدینہ کو رائج کیا جائے۔- جلسہ ہائے پیشوا مذاہب منعقد کیے جائیں اور آخر میں ہر مذہب کے سر براہ کی عزت کرنے کے حوالہ سے فرمایا۔ہر مذہب کے سربراہ کی عزت کے تحفظ کا قانون بنایا جائے عقائد کے اختلاف کو جب آپ قانونی طور پر تسلیم کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مذہبی راہنما کو انسان عقیدہ سچا نہ سمجھے تو یہ اس کی ہتک نہیں ہے اور کسی کے لئے دل آزاری کا اس میں کوئی سوال نہیں۔اس کے لئے تبلیغ کی اجازت ہے۔سمجھاؤ کہ وہ سچا ہے یہی اس کا علاج ہے اگر کسی سربراہ کے متعلق وہ ایسی بات کرتا ہے جو اپنے اظہار میں نا پسندیدہ اور مکروہ ہے جس میں گالی سے کام لیا گیا ہے، گستاخی سے کام لیا گیا ہے ہمخالفت کی گئی ہے اور مخالفت عقیدے کی نہیں بلکہ گندا چھال کر اپنے بغض کو ظاہر کیا گیا ہے تو ایسا شخص لائق تعزیر ہے۔قانون اگر بنایا جا سکتا ہے تو اس حد تک بنایا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص بغیر ضرورت کے اپنے کسی مخالف کے ایسے بزرگ کو جو اس کے نزدیک عزت رکھتا ہے خواہ کہنے والے کے نزدیک نہ رکھتا ہو ایسے لفظوں سے یاد کرے گا جو تہذیب سے گرے ہوئے اور بدتمیزی کے لفظ ہیں تو قطع نظر اس کے کہ اس کے دل میں کیا ہے ایسا شخص واجب التعزیر ٹھہرے گا اور یہ تعزیر مقرر کرتے وقت تمام دنیا کے مذہبوں کے سربراہوں کے لئے برابر حقوق تسلیم کرنے ہوں گے یہ پیغام دراصل قرآن کریم میں موجود ہے جب یہ کہا جاتا ہے کہ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِه (البقره: 289) که مومن یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں میں سے کسی میں تفریق نہیں کرتے تو اس سے یہی مراد ہے کہ عزتوں کے فرق ضرور ہوں گے۔مراتب کے فرق ضرور ہوں گے۔مگر انصاف کے ایک ہی قانون سے ان ساروں سے سلوک کیا جائے گا۔" (الفضل 4 جنوری 1993ء) سو رو شراب کا کاروبار کرنے کے حوالہ سے دینی غیرت کا اظہار آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس، آپ کی طرف سے لائی گئی تعلیم کو لاگو کرنے سے ہی ہے اور خلفاء نے اپنے اپنے وقت میں جماعت میں اس تعلیم کو جاری فرمایا ، خواہ اس کے لیے سخت سے سخت فیصلے کرنے پڑتے اور