ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 310
310 ایسے احباب کو جواسلامی تعلیم پر مل نہیں کرتے جماعت سے نکال باہر کرنے کے بھی اعلان کیے جو غیرت رسول کا ایک اظہار ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے سو رو شراب کا کاروبار کرنے والوں کے حوالہ سے فرمایا:۔" حرام کاموں میں شریک ہونے والے ، ان کی مدد کرنے والے یہاں تک کہ اگر اس کا روبار کے متعلق معاہدہ لکھنے کی ضرورت پڑے تو ایسا معاہدہ لکھنے والے پر بھی لعنت ڈالی گئی ہے۔یہ تمام مکاتب فکر کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ سور اور شراب کا براہ راست کا روبار حرام ہے۔۔۔۔۔مجھ سے یہ سوال پوچھا گیا گو وہاں ایسے احمدی تو بہت ہی کم تھے جو براہ راست ایسے کاروبار کرتے تھے لیکن اکثر احمدی بالواسطہ ایسے کاروبار میں ملوث تھے، اس وقت میں نے ان کو یہی ہدایات دی تھیں کہ اگر کسی کا اپنا ریسٹورنٹ ہے اور اس میں شراب اور سور کا کاروبار ہے تو اس کوفوراً ان دونوں چیزوں کو ختم کر دینا چاہیے۔ورنہ اس کو جماعت سے خارج کر دیا جائے گا۔کیونکہ ایسے شخص کا جماعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہ سکتا ہے، جس کے اختیار میں ہو اور پھر بھی وہ شراب اور سور کا کاروبار کرے، دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو ہوٹلوں میں کام کرتے ہیں ان کی بھی آگے دو شکلیں ہیں۔ایک تو وہ ہیں جو انتظامیہ میں کام کرتے ہیں۔اس میں تو کوئی حرج نہیں۔ورنہ اس غیر مسلم معاشرے میں رہنا ممکن نہ ہو کیونکہ ہر جگہ حرمت کا کوئی نہ کوئی پہلو موجود ہے۔دوسری شکل یہ ہے کہ وہ خود سورپکاتا ہے یا شراب یا سؤر (Serve) کرتا ہے یہ کافی مکر وہ صورت حال ہے۔اگر چہ براہ راست ان پر اسی کا روبار کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ، ایسے لوگوں کے لئے میری ہدایت تھی کہ جس قدر جلدی ہو سکے اس کے متبادل جگہ تلاش کر لیں۔اور جس حد تک انسان کے اختیار میں ہے اس کام سے بچنے کی پوری کوشش کریں۔ورنہ ہمیشہ کے لئے آپ کے منہ پر داغ لگ جائے گا کہ ایک طرف تو آپ اس کو انسان کے لئے ضرر رساں خیال کرتے ہوئے اس کو حرام سمجھتے ہیں دوسری طرف آپ اس کو (Serve) بھی کرتے ہیں، بعد میں جرمنی سے جو اطلاعات مجھے ملی ہیں ان کے مطابق بعض لڑکوں نے بڑی حیرت انگیز قربانی کا مظاہرہ کیا اور فوری طور پر بغیر کسی متبادل کام ملنے سے ( الفضل 24 مارچ1998ء) پہلے استعفے دے دیئے۔"