ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 308 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 308

308 صفحات پڑھ کر ہی اندازہ کر سکتا ہے کہ یہ بے کار باتیں ہیں جن کا اللہ تعالیٰ سے یا الہامی کتب سے کوئی بھی تعلق نہیں۔چنانچہ یہ وہ دشمنی ہے جس کا آپ کو شعور ہونا چاہئے اور پوری کوشش کر کے اس کی شناخت کرنی چاہئے ،اس کا تعاقب کرنا چاہئے اور پھر ایسے دشمنانِ اسلام کو راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کر دینا چاہئے۔آپ میں سے جو دوست پڑھے لکھے ہیں اور جو اچھی انگریزی جانتے ہیں اور جو اگر پوری طرح نہیں تو کچھ نہ کچھ قرآنی اقدار اور احمدیت کی اقدار سے واقف ہیں، انہیں یہ کتابیں پڑھ کر بتانا چاہئے کہ ان میں اسلام کے خلاف کیا کہا جا رہا ہے۔انہیں فہرستیں مرتب کرنی چاہئیں۔اس کا ایک نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ اگر وہ اس کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو خود اس کا جواب دیں۔مگر یہ کام تمام کا تمام خود ہی نہ کرتے رہیں۔میرے ذہن میں اس کام کے کرنے کے لئے ایک واضح لائحہ عمل ہے۔سب سے پہلے تو انہیں غلط بات کی شناخت کرنی چاہئے۔ان تمام چیزوں کی فہرست تیار کریں۔پھر اس کا جائزہ لیں اور پھر ان کتب میں جو حوالہ جات درج ہیں ان کی بنیاد تک پہنچ کر اپنی بہترین صلاحیتوں کو صرف کرتے ہوئے جواب تیار کریں۔مگر اسے صرف یہیں تک نہ چھوڑیں کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ وہ مؤثر طور پر اسلامی اقدار کی حفاظت نہ کر سکیں۔کیونکہ اس سارے قصے میں بہت سی چالاکیاں کی جاتی ہیں۔مختلف پہلوؤں سے بہت سی تحقیق کے بعد ہی درست جواب دیا جا سکتا ہے۔چنانچہ یہ تمام چیزیں، ایسی تمام کتب مرکز کو بھجوانی چاہئیں ، جہاں ہم انشاء اللہ ایک شعبہ قائم کریں گے جو دشمنان اسلام کی ایسی تمام کوششیں اکٹھی کرے گا اور پھر ہم اسے سنبھال کر ان تمام پہلوؤں پر تحقیقات کریں گے جن کا حوالہ دیا گیا ہے۔اس ڈیٹا کے اکٹھے ہونے کے نتیجہ میں انشاء اللہ ہم اس قابل ہوں گے کہ دشمن کے آخری مورچے تک اس کا تعاقب کریں اور یہ فوری اور بہت اہمیت کا خطبات طاہر جلد 1 صفحہ 178-179) کام ہے۔" انسانی قدروں کے لئے ایک جہاد کی ضرورت ہے 1992-93ء خلافت رابعہ کے دور کے ایسے تاریخی سال ہیں۔جن میں آپ نے خصوصیت کے ساتھ دنیا بھر کے سکالرز، مذہبی رہنماؤں، سیاستدانوں اور ملکی سربراہوں کو آپس کی نفرتیں بھلا کر ہمدردی، پیار اور بھائی چارہ و اخوت کے پیارے اصول اپنانے کی تلقین فرمائی کیونکہ اس دور میں انسان با وجود آدم اور حوا کی کوکھ سے پیدا ہونے کے آپس میں سنگین ترین تعصبات کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔چنانچہ حضور نے جلسہ سالانہ قادیان 93-1992ء کے مواقع پر لندن سے براہ راست مواصلاتی رابطے کے ذریعہ خطاب میں انسان کو اس کا مقام گنوایا۔ار فرمایا کہ تمام مذاہب کا آغاز انسانی ہمدردی سے ہوا ہے اور ان کی تعلیم میں بین الاقوامی انسانی ہمدردی موجود ہے۔اس لئے نفرتیں دور کرنے کے لئے عالمی کوششوں کی اور تمام مذاہب کے بانیوں کو سچا ماننے کی ضرورت ہے۔اس لئے پیشوایان مذاہب کے جلسے منعقد کر کے تمام مذاہب کے بانیوں اور مقدس بزرگوں کی تعریف کی جائے۔اور