ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 307 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 307

307 باندھنے کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت دعاؤں کی مدد کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت عمدگی سے پوری ہو سکتی ہے۔ایک جسکے کی بات ہے۔تبلیغ کے معاملے میں تو آغاز ہے جس میں انسان بہت دفعہ تر در محسوس کرتا ہے لیکن ایک دفعہ جب آغاز ہو جائے تو پھر تو ایسا چسکا پڑ جاتا ہے کہ تبلیغ کرنے والا پھر اس سے باز نہیں رہ سکتا۔ابھی تین دن ہوئے ہیں ایک احمدی خاتون انگلستان کی رہنے والی ہیں جو وہاں لندن ملاقات کے لئے اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ تشریف لائی تھیں تو او پر میری اہلیہ سے ملنے بھی گئیں۔ان سے باتوں باتوں میں انہوں نے پوچھا آپ کس طرح وقت گزارتی ہیں، کیا کرتی رہتی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ پہلے جب تبلیغ نہیں کیا کرتی تھی اس وقت تو یہ سوال ہوسکتا تھا اور واقعی یہ مسئلہ بھی تھا کہ کیسے وقت گزارا جائے لیکن جب سے یہ تبلیغ کی تحریک چلی ہے اور دعوت الی اللہ کے پروگرام چلے ہیں اس وقت سے تو مجھے ایسا مشغلہ مل گیا ہے کہ نہ مجھے بعض دفعہ خاوند کی ہوش رہتی ہے نہ بچوں کی ہوش رہتی ہے۔اتنا مزہ ہے اس کام میں ، انہوں نے بتایا کہ مجھے تو لت لگ گئی ہے تبلیغ کی اور اللہ کے فضل سے اس کے نیک نتائج بھی ظاہر ہور ہے ہیں۔بہت سے لوگ جن کو اسلام کے متعلق کچھ بھی علم نہیں تھا اب گہری دلچسپی لینے لگ گئے ہیں۔تو آغاز کی بات ہے۔آغاز آپ کر دیں اور انجام خدا تعالیٰ کے سپرد کریں اور واقعہ یہ ہے کہ جو لوگ خدا کی راہ میں ایک نیک قدم اٹھاتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں دس قدم اٹھانے کی توفیق بخشتا ہے۔جو چل کر آگے بڑھتے ہیں ان کو دوڑنے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔جو دوڑ کر جاتے ہیں ان کی رفتاروں میں نئی تیزیاں عطا کرتا ہے۔زمین پر چلنے والوں کو آسمانی پروازوں کی قوت بخشتا ہے۔تو نیکی کے کام میں آگے بڑھنا خدا ہی کے سپر د ہوا کرتا ہے لیکن پہلا قدم اٹھانا اور نیک ارادے کے ساتھ آگے قدم بڑھانا یہ انسان کا فرض ہے۔" ( خطبات طاہر جلد 8 صفحہ نمبر 208-209) پڑھے لکھے احمدیوں کو اسلامی تعلیمات کے خلاف کتب پڑھ کر جواب دینے کی نصیحت " بہت سی کتب اسلام کی تعلیمات اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو بگاڑنے کے لئے مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔اور جن ممالک میں یہ طبع ہو رہی ہیں وہاں کے احمدیوں نے ان کا نوٹس ہی نہیں لیا۔مثلاً یہاں انگلستان میں میں نے بعض ایسی کتب دیکھی ہیں جن کا ہمارے لٹریچر میں ذکر تک نہیں۔مگر وہ شدید زہر آلود ہیں۔اور نئی نسل کی اسی طرح پرورش کی جارہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پالیسی میں جس تبدیلی کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے یہ بعض سیاسی تبدیلیوں کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے۔کیونکہ عرب ممالک میں تیل کی موجودگی اور عرب ممالک میں دولت کی ریل پیل کی وجہ سے اب مستشرقین اپنی پالیسی تبدیل کر رہے ہیں۔اب انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مسلمان ممالک کی دشمنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواہ مخواہ کذاب قرار دے کر کیوں مول لی جائے ؟ آپ کو سچا قرار دے کر آپ کی ان کے اپنے خیال کے مطابق (نعوذ باللہ ) جھوٹی باتوں کو اجاگر کیا جائے۔چنانچہ یہ وہ پالیسی ہے جس نے اپنا نام تبدیل کیا ہے اور کچھ نہیں۔وہ قرآن کریم کواللہ تعالیٰ کی کتاب کہتے ہیں مگر پھر اس کی طرف خوفناک تضادات منسوب کر دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔اور قاری ان کی تفسیر قرآن کے چند