ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 10
10 کمر بستہ رہتے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین ایک لمحہ کے لئے بھی برداشت نہ تھی۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعاؤں کے ذریعہ مددطلب فرماتے اور اعتراضات کا دندان شکن جواب دینے کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے۔ان ہی دنوں ضلع سیالکوٹ کے دفاتر کا سپر نٹنڈنٹ ایک شخص پنڈت سج رام تھا۔یہ شخص اسلام کا بدترین معاند اور سخت کینہ پرور انسان تھا۔وہ اس خود فریبی کا شکار تھا کہ آپ چونکہ میرے ماتحت ایک سرشتہ میں ملازم ہیں اس لئے انہیں دفتری معاملات میں ہی نہیں، مذہبی معاملات میں بھی دب کر رہنا ہوگا۔یہ بد بخت اکثر اسلام پر اعتراض کرتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر زبان طعن دراز کرتا رہتا تھا۔مگر عاشق رسول حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آقا کی تو ہین ہرگز برداشت نہیں کرتے تھے اور نہ کر سکتے تھے۔اس لئے ہر قسم کے عواقب اور خطرات سے بے نیاز ہو کر ایک بے باک مجاہد کی حیثیت سے ڈٹ کر جواب دیتے۔آپ کے زبر دست دلائل سے لا جواب اور مبہوت ہونے کے بعد وہ زچ ہو جاتا تو اپنی بے بسی کی کسر نکالنے کے لئے دفتری معاملات کا سہارا لے کر آپ کو تکلیف دینے کی کوئی نئی سے نئی صورت پیدا کر لیتا اور اس مخالفت میں وہ اخلاق و شرافت کے ادنی ترین تقاضوں کو بھی پامال کر دینے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔یہ کشمکش دو ایک دن کے لئے نہیں تھی بلکہ مسلسل چار سال تک قائم رہی۔ایک طرف شوخ چشمی کی حد تھی تو دوسری طرف ابرا ہیمی صبر کا امتحان ہورہا تھا۔لالہ بھیم سین یہ صورت حال دیکھ کر حضور کو اکثر مشورہ دیتے کہ دنیاوی طور پر آپ کی ترقی سپر نٹنڈنٹ ہی سے وابستہ ہے اس لئے اگر اس کی طرف سے ایسی مخالفانہ کارروائی ہو تو الجھنے کی بجائے ٹال دیا کیجئے ورنہ اس مزاحمت میں آپ کا مستقبل مخدوش ہو جائے گا۔لیکن خدا کے اس جانباز جرنیل کی نگاہ میں دنیا کے اس ذلیل چیتھڑے کی بھلا حیثیت ہی کیا ہو سکتی تھی ؟ حضور ، لالہ صاحب کا مشورہ سنا ان سنا کر دیتے۔اپنے فرائض منصبی میں کوتاہی آپ کی فطرت و طینت کے خلاف تھی مگر خدائے واحد کے مقابل کسی انسان کو معیشت کا سر چشمہ قرار دینا بھی آپ کو کب گوارا ہو سکتا تھا چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام جب تک سیالکوٹ میں رہے سچ رام کے تیر اور نشتر تائید اسلام کے "جرم" کی پاداش میں برداشت کرتے رہے۔مگر جب مستعفی ہو کر واپس قادیان آئے تو وہی پنڈت سمج رام سیالکوٹ سے بدل کر امرت سر کی کمشنری میں سررشتہ دار بنا اور خدا تعالیٰ کے قہری تیروں کا شکار ہو گیا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبل از وقت اس ناگہانی موت کی خبر بذریعہ کشف دے دی جس نے سننے والوں کو انگشت بدنداں کر دیا۔حضرت اقدس حقیقۃ الوحی میں خدا تعالیٰ کے اس خاص نشان کے تعلق میں تحریر فرماتے ہیں:۔ایک شخص سمج رام نام امرت سر کی کمشنری میں سررشتہ دار تھا اور پہلے وہ ضلع سیالکوٹ میں صاحب ڈپٹی کمشنر کا سررشتہ دار تھا اور وہ مجھ سے ہمیشہ مذہبی بحث رکھا کرتا تھا اور دین اسلام سے فطرتا ایک کینہ رکھتا تھا اور ایسا اتفاق ہوا کہ میرے ایک بڑے بھائی تھے انہوں نے تحصیلداری کا امتحان دیا تھا اور امتحان میں پاس ہو گئے تھے اور وہ ابھی گھر میں قادیان میں تھے اور نوکری کے امیدوار تھے ایک دن میں اپنے چوبارہ میں عصر کے وقت قرآن شریف پڑھ رہا تھا جب میں نے قرآن شریف کا دوسرا صفحہ الٹانا چاہا تو اسی حالت میں میری آنکھ کشفی رنگ پکڑ گئی اور میں نے دیکھا کہ سچ رام