ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 306
306 حملہ جس سے ہمیں شدید خطرہ ہے اور ہمیں نقصان پہنچ رہا ہے وہ جماعت احمدیہ کی طرف سے ہے۔" لٹریچر کی تیاری اور تفہیم خطبات طاہر جلد 4 صفحہ 176-180 ) " اس سلسلے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ساری دنیا میں ہم غیر اسلامی دنیا سے رابطہ پیدا کرنے کی جو سکیمیں بنا چکے ہیں ، جوار ادے باندھ چکے ہیں، جو تیاریاں مکمل کر چکے ہیں ان سے یہاں بھی فائدہ اٹھانا چاہئے۔انگلستان میں وسیع پیمانے پر ایسا لٹریچر شائع ہو چکا ہے جس کو تمام انگلستان کے مختلف حصوں میں نئے نئے لوگوں تک پہنچایا جائے گا تا کہ احمدیت میں اور اسلام میں دلچسپی کی نئی راہیں کھلیں۔اس لٹریچر سے بہت حد تک یہاں بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔جہاں تک میرا علم ہے آئرش زبان اتنے وسیع پیمانے پر یہاں نہیں بولی جاتی جتنا انگریزی زبان بولی جاتی ہے۔اگر چہ تلفظ میں فرق ہے لیکن بنیادی طور پر زبان وہی ہے اور تحریری زبان کے لحاظ سے قطعاً کوئی فرق نہیں۔اسی طرح یہ علاقہ جہاں ہم نے مشن قائم کیا ہے اگر چہ یہ آئرش زبان بولنے والا علاقہ کہلاتا ہے لیکن یہاں بھی ہر فرد کو ہر بڑے چھوٹے کو انگریزی پر پورا عبور حاصل ہے۔صرف تلفظ میں فرق ہونے کی وجہ سے بعض دفعہ سمجھنے میں دقت پیدا ہوتی ہے ، تو ان لوگوں تک انگریزی لٹریچر کا پہنچانا یہ کوئی ایسا کام نہیں جس کے لئے آپ کو کوئی تیاری کرنی پڑے۔یعنی لٹریچر شائع کرنے کی تیاری کرنی پڑے۔لٹریچر کثرت سے موجود ہے،خصوصیت کے ساتھ صدسالہ جوبلی کے پروگرام کے تابع قرآن کریم کے چیدہ چیدہ اقتباسات انگریزی ترجمے کے ساتھ کثرت سے شائع کئے جارہے ہیں۔احادیث نبویہ کے چیدہ چیدہ اقتباسات کثرت کے ساتھ جس طرح دوسری زبانوں میں شائع کئے جارہے ہیں ، انگریزی زبان میں بھی شائع کئے جارہے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات اسی طرح انگریزی زبان میں بکثرت شائع کئے جارہے ہیں۔ابھی دو تین دن کی بات ہے ایک دوست نے مجھے خط میں یہ مطلع کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات ہمیں پڑھ کر اپنے بعض دوسرے دوستوں کو سنا رہا تھا جو انگریزی دان تھے تو ایک شخص تو وجد میں جھومنے لگ گیا۔اس نے کہا ایسا پاکیزہ ، ایسا اعلیٰ ، ایسا سچائی پر مبنی، سچائی میں گوندھا ہوا کلام ہے کہ سیدھا میرے دل میں اترتا چلا جا رہا ہے اور وہ کلام سوائے قرآن اور حدیث کے کسی اور چیز پرمبنی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کی خوبی یہ ہے کہ کلیۂ قرآن اور حدیث کے مضمون پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کی وہ تفاصیل دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے جس کی اس زمانے کو ضرورت ہے۔پس وہ سب تیاریاں مکمل ہیں جن کی آپ کو ضرورت ہے۔ایسا لٹریچر بھی موجود ہے جو غیر معمولی طور پر وسعت کے ساتھ نئے زمانوں کے مسائل کو حل کرنے والا ہے۔بڑی بڑی علمی کتابیں انگریزی زبان میں موجود ہیں ، تفاسیر موجود ہیں۔اس لئے کام تو بہت کرنے والے ہیں اور کام کرنے کے لئے اوزار بھی مہیا ہیں ،ہتھیار بھی دستیاب ہیں۔صرف آپ لوگوں کو اپنی ہمت جوان کرنے کی ضرورت ہے، عزم بلند کرنے کی ضرورت ہے، نیک ارادے