ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 305
305 " مرزائیوں یا احمدیوں اور دوسرے مسلمانوں میں اس قدر اختلاف رائے ہے کہ مرزائی مسلمانوں کو ، مسلمان مرزائیوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔ابھی کل کا ذکر ہے کہ ایک مسلمان نے مولوی کفایت اللہ صدر جمعیت العلماء دہلی سے مرزائیوں کے متعلق فتوئی طلب کیا تھا۔آپ نے جو فتویٰ دیا وہ جمعیت علماء کے آرگن ”الجمعیۃ دہلی کے کالموں میں شائع ہوا۔اس میں مولانا کفایت اللہ نے مرزائیوں کو کا فرقرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ زیادہ میل جول بڑھانے کو بُرا قرار دیا ہے۔" حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے والے یہ لوگ مسلمانوں کو احمدیوں کے خلاف انگیخت کر رہے ہیں اور یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم تم تو بھائی بھائی ہیں اس لئے ان احمدیوں کے پیچھے پڑو جو حضرت محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت رکھتے ہیں۔ایک آواز آج اٹھ رہی ہے کہ ہم تم بھائی بھائی ہیں اور ایک آواز کل بھی اٹھی تھی کہ ہم تم بھائی بھائی ہیں۔آج بعض نادان مسلمانوں کی طرف سے یہ آواز اٹھی ہے جبکہ پہلے آریہ، صاحب ہوش لوگوں کی طرف سے یہ آواز اٹھی تھی اور فتنہ پھیلانے کے لئے استعمال کی گئی تھی۔اخبار لکھتا ہے کہ یہ مولانا کفایت اللہ کا فتویٰ ہے جو ہم تمہیں بتارہے ہیں اور جس کا تمہیں علم نہیں کہ احمدیوں سے میل جول بھی منع ہے۔مگر مرزائیوں کی چالا کی ، ہوشیاری اور خوش قسمتی ملاحظہ ہو، جو مسلمان ان کو کا فر قرار دیتے ہیں ان کے ہی لیڈر کافر مرزائی بنے ہوئے ہیں۔اس وقت لاہور کے بدنام اخبار مسلم آؤٹ لک کے ایڈیٹر اور پرنٹر پبلشر کے قید ہونے پر تمام ہندوستان کے مسلمان ایک غیر معمولی مگر فرضی جوش کا اظہار کر رہے ہیں اور مسلم آؤٹ لک“ کی پیروی کے لئے بے قرار ہوئے پھرتے ہیں۔اخبار مسلم آؤٹ لک“ کے متعلق ہمیں یہ معلوم کر کے از حد حیرت ہوئی ہے کہ اس کے ایڈیٹرمسٹر دلاور شاہ بخاری احمدی تھے۔( جنہوں نے ورتمان کے مضمون پر جوابی حملہ کیا تھا) اور جب ہائیکورٹ کا نوٹس اُن کے نام آیا تو وہ مرزا قادیانی کے پاس گئے تاکہ اپنے ڈیفنس یا طرز عمل کے متعلق اس کی رائے لیں۔مرزا نے انہیں مشورہ دیا کہ معافی مانگنے کی بجائے قید ہو جانا بہتر ہے۔(محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت کی خاطر اگر تم قید ہوتے ہو تو کوئی پرواہ نہیں۔چنانچہ واقعہ یہی ہوا اور انہیں قید بامشقت کی سزادی گئی اور انہوں نے بڑی خوشی سے اُسے قبول کیا۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ وہ مرزا قادیانی کے پاس گئے اور انہوں نے یہ مشورہ دیا ) غرضیکہ ہر پہلو سے یہ ایک احمدی تحریک ہے۔اخبار گورو گھنٹال لا ہوراار جولائی ۱۹۲۷ء) کہاں ہیں آج کے مؤرخ پاکستان جو ساری اسلامی تاریخ کا حلیہ بگاڑنے کے درپے ہیں اور ان کے ہاتھوں سے لکھی ہوئی تاریخ پاکستان تو پہچانی نہیں جارہی۔وہ تحریک جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت ،محبت اور عشق میں اٹھی تھی اس میں جن لوگوں کے ساتھ مقابلہ تھا اور جن پر چوٹیں پڑ رہی تھیں وہ یہ کہہ رہے تھے " غرضیکہ ہر پہلو سے یہ ایک احمدی تحریک ہے۔" اسی طرح " پرتاپ " اور دوسرے اخباروں نے بھی اس مضمون پر قلم اٹھائے اور کھلم کھلا یہ تسلیم کیا کہ اصل جوابی