ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 303 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 303

303 ( خطبات طاہر جلد 5 صفحہ 549-550) کہیں انہوں نے کھلی کھلی خباثت کا اظہار کیا ہے، کہیں دبی دبی خباثت کا اظہار کیا ہے، کبھی کبھی میٹھے میں کڑواہٹ لپیٹ کر پیش کی ہوئی ہے، تو جہاں تک ہمارے پاس یہ اعتراض مرتب ہو چکے ہیں ان کو چھپوا کے یا فوٹوسٹیٹ نکلوا کر بڑی بڑی جماعتوں میں تقسیم کرا دیئے جائیں گے تاکہ مختلف اہل علم کے سپرد کر کے سال بھر کے پروگرام میں ضروری نہیں کہ اکٹھا ایک ہی دفعہ ہو مختلف جتنے بھی جلسے ہوں گے ان میں کوئی نہ کوئی اعتراض لے کر ان کا مؤثر جواب ہو اور جو جواب تیار کیا جائے وہ پہلے ایک مرکزی کمیٹی کو دکھا لیا جائے جو مبلغ یا مربی کے زیر نگرانی ہوگی یا امیر جماعت کی زیر نگرانی ہوگی اور وہ اپنے دوسرے ماہرین کی کمیٹی میں ان کو دیکھیں اور اس میں مزید اصلاح کریں ، خامیوں کو دور کریں اور پھر وہ تقریر یا پڑھی جائے یا زبانی کی جائے جیسی بھی صورت ہو اور باقی جگہ دنیا میں اگر کوئی ایسے اعتراض یا غلط فہمیاں ہیں، حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے متعلق جو زیادہ تر مقامی حالات سے تعلق رکھتی ہیں تو ان کا ذکر ضروری ہے اور ان کا مؤثر جواب ضروری ہے۔" ہندوستان میں توہین رسالت پر لکھی گی کتب پر تبصرہ اور رد عمل "ہندوستان میں جن سالوں میں خاص طور پر مسلمانوں کی دل آزاری کی گئی ہے اُن میں سے 1927ءکا سال خاص طور پر قابل ذکر ہے۔یہ وہ سال ہے جس میں بدنام اور نہایت ہی رسوائے عالم کتاب ”رنگیلا رسول لکھی گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ذات پر اس قدر خوفناک اور کریہہ حملے کئے گئے کہ اُن کے تصور سے بھی مسلمان کا خون کھولنے لگتا ہے اور ابھی یہ صدمہ کم نہیں ہوا تھا بلکہ اس کے مصنف راجپال کے خلاف ایک مہم جاری تھی کہ ایک اور آریہ رسالہ ” ورتمان میں ایک ہندو عورت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایک ایسا نا پاک مضمون لکھا کہ کوئی شریف النفس انسان اس کو پڑھ بھی نہیں سکتا۔مسلمان تو مسلمان کوئی دوسرا بھی اس کو پڑھے تو حیران ہو کہ یہ کیسی سیاہ کا رعورت ہے جس کے قلم سے ایسے حیا نہ کلمات ایک مذہب کے بانی کے متعلق نکل رہے ہیں۔ایک عام مذہب کے بانی کے متعلق بھی کوئی شریف انسان اس قسم کے کلمات نہیں کہ سکتا مگر سید ولد آدم کے متعلق جو سب پاکوں سے بڑھ کر پاک تھے، جو سب سیڈوں سے بڑھ کر سید تھے، سب سرداروں سے بڑھ کر سردار تھے ، جن کی خاطر کا ئنات کو پیدا کیا گیا اور جو نہ صرف خود پاک بلکہ دوسروں کو پاک بنانے والے تھے، جو ز کی ہی نہیں بلکہ مزکی بھی تھے، جن کی برکت اور فیض سے انبیاء پاک بنائے گئے ، ان کے متعلق ایسے ناپاک حملے تھے کہ قلم میں یارا نہیں کہ ان حملوں کا ذکر بھی کر سکے۔ایسے موقع پر ان مخالفانہ حملوں کے خلاف جو تحریک اٹھی اور مسلمانوں کو اس سلسلہ میں جو عظیم الشان جد و جہد کرنا پڑی۔سوال یہ ہے کہ اس کا سہرا کانگریسی علماء کے سر تھایا مودودی علماء کے سرتھایا جماعت احمدیہ کو اللہ تعالی نے یہ توفیق عطا فرمائی کہ اس نے اس عظیم جدو جہد میں نہ صرف غیر معمولی طور پر حصہ لیا بلکہ اس کی سیادت کی توفیق پائی۔مضمون چونکہ لمبا ہونے کا خطرہ تھا اس لئے میں نے مختصراً ہندوستان کے ایک مسلمان اخبار کا ایک اقتباس آپ کے سامنے پیش کرنے کے لئے چنا ہے اور اسی طرح میں آپ کے سامنے دو ہندو اخبارات کے اقتباسات بھی رکھتا