ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 302 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 302

302 کے مقابل پر ٹکرادیا ہے، اتنی عظیم طاقتیں ہیں۔صرف دولت کے اعتبار سے ہی دیکھیں تو کروڑوں گنا زیادہ طاقتور قومیں ہیں ، مقابل پر جماعت احمدیہ کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔اگر عددی اعتبار سے دیکھیں تو یہی صورت حال ہے،اگر سیاسی اثر ونفوذ کے لحاظ سے دیکھیں تو یہی صورت حال ہے۔کوئی ایسا پہلو جو مقابلوں میں کام آیا کرتا ہے ایسا نہیں جو جماعت احمدیہ کو ان کے اوپر فوقیت دیتا ہو پھر خدا تعالیٰ نے ہمیں اس غیر متوازن جنگ میں کیوں الجھا دیا اور کیوں ہم سے یہ توقع کی گئی کہ ہم اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر بالآخر غالب کر کے دکھا ئیں گے؟" ( خطبات طاہر جلد 10 صفحہ 824) عالم اسلام کو صرف جماعت کی دعاؤں سے بچایا جاسکتا ہے پس ایک جماعت ہے اور صرف ایک جماعت ہے جو سیع محمدمصطفی صلی اللہ علیہ سلم کی جماعت ہے جس کے متعلق خدا نے یہ مقدر کر رکھا تھا کہ اگر عالم اسلام کو بچایا گیا تو اس جماعت کی دعاؤں سے بچایا جائے گالیکن شرط یہ ہے کہ وہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت میں پناہ لیں ، آپ کی تعلیم میں پناہ لیں، آپ کے کردار میں پناہ لیں۔آپ کی سنت میں پناہ لیں اور پھر دعائیں کریں۔اسلام اور رسول کریم مخالف اعتراضات کا جواب تیار کرنے کی جماعت کو ہدایت " میں آپ کو اس نیک پروگرام کی طرف بلاتے ہوئے دوبارہ اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ آپ اسلام کا زندگی بخش پیغام لے کر دنیا میں نکلنے والے ہیں، آپ اسلام کی مئے عرفان بانٹنے والے ہیں ، آپ مردہ دلوں کو ایک حیات نو بخشنے والے ہیں۔آپ مردہ زمینوں کو دوبارہ زندہ کرنے والے ہیں۔اس لئے کہ آپ وہ بادل ہیں جو آج دنیا میں مردہ زمینوں کو زندہ کرنے کے لئے خدا کی پاک ہواؤں نے چلائے ہیں۔بادلوں کی طرح رحمت بن کر دنیا پہ برستے رہیں اور اس رحمت کا اس سے بہتر کوئی تعارف نہیں ہو سکتا کہ قرآن ایک ہاتھ میں ہو اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت آپ کی جان ، آپ کی زندگی ، آپ کے وجود کے انگ انگ میں گھلی ہوئی ہو اور اس طرح عمل صالح کے ساتھ اپنے نیک پیغام کو اور نیک کلام کو رفعتیں عطا کرتے رہیں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا:۔سیرت کے مضمون کے سلسلہ میں ایک بات کہنی بھول گیا تھا ، اب مجھے یاد آئی کہ ہم نے مغربی مفکرین کے اعتراضات مرتب کر لئے ہیں۔یہ کام جاری ہے اور بھی ہوتے رہیں گے اور خیال یہ ہے کہ ان سیرت کے جلسوں میں جہاں تک مغربی دنیا کا تعلق ہے ان اعتراضات کو بھی پیش نظر رکھ کر ان کے اچھے جواب تیار ہونے چاہیں اور ہر ملک میں الگ الگ کوشش ہوتی رہے، مثلاً فرانس کی جماعت خصوصاً فرانس کے مستشرقین کے گندے اعتراضات کو پیش نظر رکھ کر وہاں ان کے جواب دے، سیرت کے جلسوں میں اور انگلستان کی جماعت انگریز مستشرقین کے سوالات کو یا اعتراضات کو پیش نظر رکھے خصوصیت کے ساتھ ، اسی طرح جرمن ہیں، ڈچ ہیں ،امریکن ہیں، جتنے مستشرقین ہیں،