ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 301 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 301

301 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید گستاخی کرتی ہے۔حیرت کی بات ہے کہ وہ جماعت جو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا بیٹھی ہے، وہ جماعت جو تنہا سارے عالم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور شرف کی خاطر ایک عظیم جہاد میں مصروف ہے، وہ جماعت جس نے گزشتہ ایک سوسال سے تمام دنیا میں اسلام کا سر بلند کرنے کے لئے اپنی جانیں، اپنی عزتیں، اپنے اموال، اپنی اولاد میں سب کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر رکھے ہیں، وہ جماعت جس کے متعلق دشمن بھی اپنے عناد کے باوجود یہ ضرور تسلیم کر لیتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر اسلام کی تائید میں، اسلام کی محبت میں خدمت دین کرنے والی اور کوئی جماعت سارے عالم میں نظر نہیں آتی۔وہ جماعت جس کے سربراہ کے متعلق مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے یہ لکھا کہ گزشتہ تیرہ سو سال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر اس سے بڑھ کر کوئی مجاہد کبھی پیدا ہوا ہو جس نے اپنی زبان سے، اپنے افعال سے، اپنی مالی قربانی سے، اپنی جانی قربانی سے، دلائل اور براہین سے، اسلام کی ایسی خدمت کی ہو تو کوئی بتائے تو سہی وہ کون تھا ؟ مولا نا محد حسین بٹالوی لکھتے ہیں کہ ان کی نظر میں ایسا کوئی شخص نہیں جو حضرت مرزا صاحب کے مقابل پر ایسی شان سے اسلام کے حق میں جہاد کر رہا ہو اور پھر وہ مزید تاکیداً لکھتے ہیں کہ کوئی اسے ایشیائی مبالغہ نہ سمجھے، تاریخ عالم پر نگاہ ڈالو اور بتاؤ کون ہے وہ مرد میدان جو مرزا صاحب کے مقابل پر جہاد اسلام میں آپ کی برابری کا دعویٰ کر سکتا ہو؟ الفاظ تو یہ میرے ہیں لیکن ان کے الفاظ جو تحریر میں ایک خاص شوکت رکھتے ہیں مجھے زبانی تو یاد نہیں لیکن وہ ہر بار پڑھنے سے ایک عجیب لذت محسوس ہوتی ہے کہ وہ جو عقائد میں آپ سے مختلف تھے، جن کا آپ سے ایک عالمانہ دوستی کا تعلق تو تھا لیکن وہ عقائد جو جماعت احمدیہ کے عقائد ہیں ان سے انکا دور کا بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔لیکن خدا تعالیٰ نے جب حق نکلوایا زبان سے تو حق نکلا اور بڑے زور سے نکلا۔" جماعت احمد یہ سنت رسول کے معدوم حصوں کو زندہ کرنے والی ہے "جماعت احمد یہ بھی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے معد وم حصوں کو زندہ کرنے والی جماعت ہے۔ایسی سنت کو اپنے کردار میں از سرنو زندہ کرنے کا عزم لے کر اٹھی ہے جس سنت کے حسین پہلوؤں کو خطبات طاہر جلد 3 صفحہ 724-725) (خطبات طاہر جلد 10 صفحہ 18 ) بالعموم مسلمانوں نے کھلا رکھا ہے۔" مغربی طاقتوں کے اسلام پر حملہ کے دفاع کا تمام بوجھ جماعت کے سر ہے " کسی پہلو سے بھی آپ عالم اسلام پر نگاہ ڈالیں تسلی کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی اور غیر طاقتیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بڑے عزم اور بڑے گہرے اور دیر پا منصوبوں کے ساتھ دوبارہ ساری دنیا پر بھی حملہ آور ہیں اور خصوصیت سے اسلام پر حملہ آور ہیں۔اس صورتحال میں جماعت احمدیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کے دفاع کا تمام تر بوجھ اپنے اوپر اٹھائے اور یہی وہ مقصد ہے جس کے لئے جماعت احمدیہ کو پیدا کیا گیا ہے۔جب میں مخالفانہ طاقتوں، ان کے منصوبوں اور ان کی صلاحیتوں کا جائزہ لیتا ہوں تو میں حیران رہ جاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے کس کو کس