ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 299
299 رستوں کو بھی امن عطا کیا یعنی اسلام کی ایسی تشریحات کیں اور اپنی زندگی میں اسلام کو ایسے حسین اسوہ میں ڈھال کر دکھایا کہ بے جان چیز ہو یا جاندار ہو، ہر چیز کو جو خدا نے پیدا کی ہے مسلمان سے امن نصیب ہوسکتا ہے اور ہوتا ہے۔یہ تشریح آپ نے اپنی عملی زندگی میں ہمیں کر کے دکھائی۔یہاں تک بتایا کہ پانی کے بھی حقوق ہیں ، رزق کے بھی حقوق ہیں ، جانوروں کے بھی حقوق ہیں، رستوں کے بھی حقوق ہیں اور کوئی باریک سے بار یک ایسی چیز بیان سے باہر نہیں رکھی جس میں خدا کی کسی تخلیق کے حقوق ہوں اور آپ نے ہمیں اس سے متعلق متوجہ نہ فرمایا ہو، پس ہر چیز جس وجود سے امن میں آجائے وہی وہ وجود ہے جو یہ کہہ سکتا ہے۔اَسلَمُتُ لِرَبِّ الْعَلَمِینَ میں کامل طور پر خدا کا ہو گیا۔گویا جو سب کچھ خدا کا ہے میں کامل طور پر اس کا پیام امن بن گیا۔اسی لئے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلَمُتُ الله نہیں کہا بلکہ اَسلَمُتُ لِرَبِّ الْعَلَمِین فرمایا۔مطلب یہ تھا کہ میں اسلام کے باریک ترین نقاضوں کا عرفان رکھتے ہوئے تیرا ہورہا ہوں۔جن کا تو رب ہے۔مجھے بھی اسلام کے بعد ان کی ربوبیت میں حصہ لینا ہوگا اور ان کے حقوق ادا کرنے ہوں گے۔اسلئے جب میں کہتا ہوں کہ اَسلَمُتُ لِرَبِّ العَلَمِینَ تو پوری ذمہ داری کے ساتھ اس کے باریک تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہہ رہا ہوں۔یہ مضمون ہے جو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے جواب میں ملتا یہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی اس مضمون پر شاہد ناطق تھی۔پس اسلام کی طرف منسوب ہو نیوالا اگر Terrorist کہلانے لگے اور دنیا کی حکومتوں کے وزراء ان کے متعلق یہ بیان دیں، جیسا کہ مسز تھیچر کے بیان کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے کہ عالم اسلام سے ہمیں سخت خطرات درپیش ہیں اور دنیا کے امن کو تباہ کرنے کے احتمالات پیدا ہور ہے ہیں تو کتنی ظلم کی بات ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ یہ لم مسز تھیچر نے کیا، ہو سکتا ہے کہ انہوں نے بھی از راہ ظلم یہ بات کی ہو لیکن ان لوگوں نے ضرور یہ ظلم کیا ہے جنہوں نے مسلمان کہلاتے ہوئے ایسے نمونے پیش کئے اور ایسی دھمکیاں بنی نوع انسان کو دیں جن کے نتیجے میں اسلام کی ایک بالکل غلط تصویر دنیا میں ابھری ہے۔جماعت احمدیہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس مضمون کو سمجھے اور ہر احمدی ان معنوں میں مسلمان بنے جن معنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کو قبول فرمایا اور اپنے اسوہ حسنہ میں جاری فرمایا اور جن معنوں میں ہر دوسرا شخص بلکہ کائنات کی ہر چیز اگر کسی ایک وجود سے امن محسوس کرتی تھی تو وہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تھا۔یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی مسلمان ہو اور بھیا تک ہو۔یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی مسلمان ہو اور اس کے پاس بیٹھنے سے لرزہ محسوس ہوتا ہو اور انسان اس کے قرب سے، اس کی باتوں سے خوف کھائے ، اس کی زبان سے خوف کھائے ، اس کے پاس نہ اپنی عزت محفوظ ہو ، نہ اپنی جان محفوظ ہو، نہ اپنا مال محفوظ ہو۔پس وہ ملاں جو دنیا میں Terror پھیلاتے ہیں۔جن کی زبان سے مغلظات نکلتی ہیں ، لوگوں کے دلوں کے امن لوٹتے ہیں، جو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اسلام کے نام پر