ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 9 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 9

رہے ہیں اور ایک کو نہ سے دوسرے کو نہ کی طرف تڑپتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔جیسے کہ ماہی بے آب تڑپتی ہے یا کوئی مریض شدت درد کی وجہ سے تڑپ رہا ہوتا ہے۔میں اس حالت کو دیکھ کر سخت ڈر گیا اور بہت فکر مند ہوا اور دل میں کچھ ایسا خوف طاری ہوا کہ اس وقت میں پریشانی میں ہی مبہوت لیٹا رہا۔یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ حالت جاتی رہی۔صبح میں نے اس واقعہ کا حضور علیہ السلام سے ذکر کیا کہ رات کو میری آنکھوں نے اس قسم کا نظارہ دیکھا ہے۔کیا حضور کو کوئی تکلیف تھی یا درد گردہ وغیرہ کا دورہ تھا؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔"میاں فتح دین! کیا تم اس وقت جاگتے تھے؟ اصل بات یہ ہے کہ جس وقت ہمیں اسلام کی مہم یاد آتی ہے۔اور جو جو مصیبتیں اس وقت اسلام پر آرہی ہیں۔ان کا خیال آتا ہے۔تو ہماری طبیعت سخت بے چین ہو جاتی ہے۔اور یہ اسلام ہی کا درد ہے۔جو ہمیں اس طرح بے قرار کر دیتا ہے۔" سیرت المہدی جلد اول حصہ سوم صفحہ 524 روایت نمبر (516) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی قلبی کیفیت کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں۔دین و تقومی گم ہوا جاتا ہے یا رب رحم کر بے بسی سے ہم پڑے ہیں کیا کریں کیا اختیار میرے آنسو اس غم دل سوز سے تھمتے نہیں دیں کا گھر ویران ہے دنیا کے ہیں عالی مینار اے مرے پیارے مجھے اس سیلِ غم سے کر رہا ور نہ ہو جائے گی جاں اس درد سے تجھ پر شمار ( در ثمین بعنوان پیشگوئی جنگ عظیم ) ہندوستان میں عیسائیت کی یلغار اور حضرت مسیح موعود کا دفاع ناموس مصطفیٰ کے لئے پہلے معرکہ کی تیاری حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام 1864 ء سے 1867 ء تک سیالکوٹ میں بسلسلہ ملازمت قیام پذیر رہے۔آپ دفتری اوقات کے بعد اپنا وقت عبادت، تلاوت قرآن مجید اور تبلیغ اسلام جیسی اہم دینی مہمات میں گزارتے۔آپ ناموس مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے لئے جس معرکہ کی تیاری کر رہے تھے۔اس کا سب سے پہلا ظہورسیالکوٹ کی سرزمین ثابت ہوئی۔ان دنوں لالہ بھیم سین صاحب سے مذہبی مسائل پراکثر گفتگو رہتی بلکہ آپ نے تحریری طور پر قرآن مجید کی سچائی بھی ان کے سامنے ثابت کی۔لالہ بھیم سین کی وفات کے بعد ان کے بیٹے لالہ کنورسین صاحب نے اپنے والد کے پرانے کاغذات سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنے والد کے نام ایک خط مکرم شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب کو بھجوایا جس میں آپ نے سورۃ فاتحہ کی روشنی میں بت پرستی کے مسئلہ پر زبر دست تنقید فرمائی تھی۔( حیات النبی جلد اول نمبر دوم صفحہ 163 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 84 تا 87) ملازمت کے دوران اسلام اور اپنے آقا و مطاع سید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں ہر وقت