ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 297 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 297

297 اسلامی سربراہان مملکت کے اپنے عملوں سے اسلام کی عزت اور وقار مجروح ہورہے ہیں "پس میں جماعت احمدیہ کے سربراہ کے طور پر اپنے تمام مسلمان بھائیوں کو خواہ وہ ہمیں بھائی سمجھیں یا نہ سمجھیں، یہ پرزور اور عاجزانہ نصیحت کرتا ہوں کہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو شدید خطرات در پیش ہیں۔تمام عالم اسلام کی دشمن طاقتیں آپ کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی دخل اندازی کے بہانے ڈھونڈتی ہیں اور ایک لمبا عرصہ ہوا کہ آپ ان کے ہاتھ میں نہایت ہی بے کس اور بے بس مہروں کی طرح کھیل رہے ہیں اور ایک دوسرے کو شدید نقصان پہنچارہے ہیں۔اس لئے تقویٰ کو پکڑیں اور حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو جو آج دنیا میں ذلت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور تمسخر کا سلوک ان کے ساتھ کیا جارہا ہے، تمام دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں بڑی حقارت سے عالم اسلام کو دیکھتی ہیں اور مجھتی ہیں کہ یہ ہمارے ہاتھوں میں اسی طرح ہیں جس طرح بلی کے ہاتھوں میں چوہا ہوا کرتا ہے اور جس طرح چاہیں ہم ان سے کھیلیں اور جب چاہیں سوراخ میں داخل ہونے سے پہلے پہلے اس کو دبوچ لیں۔یہ وہ معاملہ ہے جو انتہائی تذلیل کا معاملہ ہے۔نہایت ہی شرمناک معاملہ ہے اور عالم اسلام پر داغ پر داغ لگتا چلا جارہا ہے۔اسلام کی عزت اور وقار مجروح ہوتے چلے جارہے ہیں۔اس لئے خدا کا خوف کریں اور اسلام کی تعلیم کی طرف واپس لوٹیں اس کے سوا اور کوئی پناہ نہیں ہے۔" ( خطبات طاہر جلد 9 صفحہ 448) مخالفین اسلام نے سب سے زیادہ مخالفت حضرت محمد کی کی ہے اگر آپ آفاقی نظر سے مطالعہ کر کے دیکھیں تو دنیا کے کسی نبی کو دنیا کے باقی مذاہب نے اتنی گالیاں نہیں دیں جتنی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیں۔ساری عیسائی تاریخ ، ساری یہودی تاریخ ، ساری ہند و تاریخ اور دیگر مذاہب کی تاریخ اس بات سے بھری ہوئی ہے۔آخر ہندوؤں کے یہودیوں سے بھی تو اختلاف ہیں عیسائیوں سے بھی تو اختلاف ہیں دوسرے، دیگر مذاہب سے بھی اختلاف ہیں، مگر مجھے کوئی ایک ہندو کتاب اٹھا کر دکھائیے جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دی گئی ہوں، حضرت عیسی علیہ السلام کو گالیاں دی گئی ہوں۔جو بد بخت اٹھتا ہے ان میں سے لکھنے والا یعنی مذہب کے معاملے میں لکھنے والا وہ دنیا کی سب سے مقدس ذات ،سب سے زیادہ ہمدرد ذات کو اپنے ظلم اور اپنے دل کے تعفن کا نشانہ بناتا ہے۔ایسی ایسی ظالمانہ کتابیں ہیں کہ خون کھولنے لگتا ہے انسان چند صفحے مطالعہ نہیں کر سکتا۔پھر آپ عیسائی دنیا کے لٹریچر کا مطالعہ کر کے دیکھ لیجئے وہ یہود جن سے سب سے زیادہ ضرران کو پہنچا آغاز عیسائیت پر، وہ یہود جو مسیح کی صلیب کا موجب بنے ان کی سب تکلیفوں کو کلیۂ بھلایا جا چکا ہے۔گزشتہ سینکڑوں سال سے جو عیسائی مصنف اٹھتا ہے وہ اسلام کو اپنے مظالم کا نشانہ بناتا ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو خصوصیت کے ساتھ اپنے طعن و تشنیع کا نشانہ بناتا ہے۔یہودی کتب اٹھا کر دیکھ لیجئے عیسی علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کا ایک فوری مقابلہ تھا اس وقت جو بعد میں پھیلتا چلا گیا اور وہ مقابلہ جس کا آغاز حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی کے ساتھ ہوا تھا وہ آج تک اسی طرح جاری رہنا چاہئے مگر عیسائی اور یہودی