ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 296 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 296

296 کی جائے اور جھوٹ کو اور باطل کو اپنی سوسائٹی سے باہر نکال کے پھینک دیا جائے۔یہ دعوی ہے، اگر یہ دعوی سچا ہے تو قتل مرتد کے عقیدے پر عمل کر کے دیکھئے کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ظاہر بات ہے بالکل معمولی سی عقل بھی رکھتا ہو انسان تو اسے یہ بات سمجھ آجائے گی کہ جس سوسائٹی میں قتل مرتد کا عقیدہ رائج کر دیا جائے وہاں جو لوگ صادق القول ہیں اور جو اپنے ظاہر و باطن میں ایک ہیں ان میں کوئی نفاق نہیں ہے اور وہ سچائی کی خاطر ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ایسے وہ لوگ جو انسانیت کا خلاصہ ہیں، یہ سارے قتل کر دیے جائیں گے کیونکہ ایک بھی ان میں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔وہ کہے گا کہ سچ کے نام پر میں سچ کا انکار کیسے کر سکتا ہوں کیونکہ میرا دل کہتا ہے کہ یہ بات درست ہے اس لئے تم بیشک اسے باطل سمجھو میں جب تک درست سمجھتا رہوں گا اس وقت تک میرے لئے ممکن نہیں ہے کہ میں اسے جھوٹ کہہ دوں۔یہی وہ جواب تھا حضرت شعیب کا اَوَلَو كُنَّا كرهين احمقو! دعویٰ وہ کر بیٹھے ہو، جس پر عمل کروا نہیں سکتے۔ہمارے دل ہی نہیں مان رہے تو کیسے تلوار سے دل منوالو گے۔پس تمام وہ لوگ جو بچے ہیں اپنے قول اور فعل میں اور ان کے کردار میں کوئی تضاد نہیں وہ اصول کے رسیا ہیں اور اصولوں پر قائم رہنا جانتے ہیں۔ایسی سوسائٹی میں ان کا قتل عام ہو جائے گا اور ایک بھی نہیں بچے گا اور وہ جو جھوٹے ہیں ، بدکردار ہیں، جو منافق بننا پسند کرتے ہیں اپنے لئے اور اصولوں کی کوئی قیمت نہیں سمجھتے وہ سارے کے سارے قتل مرتد کے نتیجے میں اس سوسائٹی میں لوٹ جائیں گے جس کی طرف انہیں بلایا جارہا ہے۔اعلان یہ ہور ہا تھا کہ حق کی حفاظت کی خاطر باطل کو مٹانے کے لئے ہم نے یہ فعل کیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ حق کو مٹا دیا اور باطل کو سینے سے لگالیا اور منافقت کی پرورش کی۔(خطبات طاہر جلد 3 صفحہ 399-400) جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے وہ تو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن نہیں چھوڑے گی اور جو یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں بار بار کہتا ہوں بڑی شدت اور قوت کے ساتھ کہ لازما ہم جیتیں گے ، کیوں کہتا ہوں اس لئے کہ اب یہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کر رہے ہیں اور قرآن پر حملہ کر رہے ہیں۔جس تعلیم سے ہمیں روکتے ہیں وہ قرآن کی تعلیم ہے، جس سنت سے ہمیں باز رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور یہ وہ دو ایسی چیزیں ہیں جن کی خدا سب سے زیادہ غیرت رکھتا ہے۔ناممکن ہے کہ قرآن پر حملہ کرنے دے ان کو اور چھوڑ دے خالی اور سنت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے دے اور باز پرس نہ فرمائے اس لئے ان کا معاملہ تو اب براہ راست خدا سے ٹکر کا معاملہ بن چکا ہے۔جہالت کی حد ہے کہ قرآنی تعلیم پر عمل کرو گے تو ہمیں غصہ آئے گا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا دم بھرو گے تو ہمیں اتنی تکلیف ہوگی کہ جب تک تمہیں مار نہ لیں قتل نہ کرلیں تمہیں انسانی حقوق سے محروم نہ کر لیں ، ہمارا سینہ ٹھنڈا نہیں ہوگا یہ شکل بن چکی ہے۔(خطبات طاہر جلد 3 صفحہ 423)