ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 295 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 295

295 سیراب کیا اور ایک ایسا آب حیات برسایا جس نے صحراؤں کو سبزہ زاروں میں اور ویرانوں کو چمنستانوں میں تبدیل کر دیا اور مردہ زمینوں کو زندہ کر دیا۔پس ایک طرف یہ ہے کہ روح حق اور روح اسلام کی آواز اور دوسری طرف مودودیت کی روح ہے جو مودودی صاحب کے الفاظ میں بول رہی ہے اور ظلم و ستم کے عجیب گل کھلا رہی ہے۔اسلامی تعلیم کے مطالعہ کے بعد ان کی عمر بھر کی عرق ریزی کا نچوڑ یہ ہے جو وہ ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں " جب وعظ و تلقین کی ناکامی کے بعد " انا لله و انا اليه راجعون! کیا یہ مزاج شناس نبوت کی آواز ہے جو ہم سن رہے ہیں۔نہیں ! نہیں ! مزاج شناس نبوت نہ کہو یہ تو معاندین اسلام کے مزاج سے ہم آہنگ آواز ہے، یہ تو وہی آواز ہے جو میجر آسبرن کے خون میں آتش غضب بن کر دوڑا کرتی تھی ، یہ تو وہی نجس آتش سیال ہے جس نے ہزار ہا معاندین اسلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آتش حسد میں بریاں رکھا۔میرے وجود پر تو اس تحریر کو پڑھ کر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔تن بدن میں آگ سی لگ جاتی ہے، الفاظ نہیں یہ تو بے رحم پتھر ہیں، کلام نہیں یہ تو سفاک اور تیز دھارنشتر ہیں جو ہر عاشق رسول کے دل پر چلتے ہیں۔یہ وہ نشتر ہیں جن کے زخم گہرے اور پر درد اور سخت اذیت ناک ہیں۔کیا یہ مزاج شناس نبوت کی آواز ہے جو ہم سن رہے ہیں۔نہیں انہیں ! یہ تو آسبرن اور پادری عماد الدین کی باتیں ہیں جو مسلمانوں کے دل کو خون کرنے والی ہیں۔خدا کے لئے اسے روح اسلام نہ کہو اسے روح مودودیت کہو۔تف ہے ان پر جو اس آواز کو روح اسلام کہتے ہیں۔کہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عارفانہ تصور غلبہ اسلام اور تصور جہاد اور کہاں یہ بھیس بدلی ہوئی لاکھ پردوں میں لیٹی ہوئی باتیں جو ان پردوں میں رہ کر بھی اپنے زہر کو چھپا نہیں سکتیں ، ان کا نشتر ان پردوں کو چاک کر کے پھر بھی ہمارے دلوں پر حملہ کر رہا ہے۔پس یہ وہ باتیں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام پر سب سے زیادہ بھیا نک الزامات ہیں۔ہم کیسے تسلیم کریں اس تصور جہاد کو۔یہ تو مٹنے اور رد کئے جانے کے لائق تصور ہے۔ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک لحظہ کے لئے بھی اس تصور کو منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ہم اس کو کسی صورت میں ماننے کے لئے تیار نہیں۔پس ان علماء کے حالات کو دیکھیں دل پر ایک عجیب سی کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔اسلام کے نام پر مگر اس کی روح سے یکسر غافل یہ لوگ خدا کے مقدس وجودوں پر ظالمانہ حملے کرنے والے وقت وقت کی آواز میں بدلتے رہتے ہیں اور کوئی خوف نہیں کھاتے کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ہماری زبان کیا ہے اور ہمارا عمل کیا ہے۔" ( خطبات طاہر جلد 4 صفحہ 145-147) مسلمانوں کے قتل مرتد کے عقیدہ سے اسلام کی بدنامی ہورہی ہے چنانچہ دیکھئے قتل مرتد کے عقیدے کے نتیجے میں کیا نتیجہ پیدا ہوتا ہے؟ بالکل برعکس نتیجہ، ان مقاصد کے برعکس پیدا ہوتا ہے جن مقاصد کے نام پر قتل مرتد کا عقیدہ جاری کیا گیا یعنی اس لئے کہا گیا قتل مرتد جائز ہے کہ حق کی حفاظت