ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 294
294 ہوئے۔اللہ تعالیٰ اس وقت تک صحیح فرمارہا تھا جب تک تلوار نہیں تھی مگر جب تلوار چلی تو پھر یہ سارے پردے چاک ہو گئے۔بلکہ گردنوں میں وہ بختی اور سروں میں وہ نخوت بھی باقی نہیں رہی جو ظہور حق کے بعد انسان کو اس کے آگے جھکنے سے باز رکھتی ہے۔عرب کی طرح دوسرے ممالک نے بھی (سینے ! ) جو اسلام کو اس سرعت سے قبول کیا کہ ایک صدی کے اندر چوتھائی دنیا مسلمان ہوگئی تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ اسلام کی تلوار نے ان پر دوں کو چاک کر دیا جو دلوں پر ( الجہاد فی الاسلام صفحہ: ۱۴۱_۱۴۲) پڑے ہوئے تھے۔ایسی تحریر تو تاریخ سے کلیہ نا واقف شخص کی ہو سکتی ہے۔اس اعلان کے ایک ایک لفظ کو انڈونیشیا کا ہر مسلمان جھٹلا رہا ہے ، اس اعلان کے ایک ایک لفظ کو چین کے وہ چار صوبے جو تمام تر مسلمان ہو چکے ہیں وہ سب جھٹلا رہے ہیں۔اسلام کی کوئی تلوار نہ انڈونیشیا پہنچی نہ ملایا اور نہ چین۔ان کا ایک ایک بچہ، ان کی ایک ایک عورت ، ان کا ایک ایک مرد ایک ایک جوان اور ایک ایک بوڑھا مودودی صاحب کے اعلان کو جھٹلا رہا ہے اور اعلان کر رہا ہے کہ خدا کی قسم محمد کی تلوار نے نہیں محمد کے حسن نے ہمیں فریفتہ بنایا تھا اور اس کے حسن اور قوت قدسیہ نے ہمارے دل جیتے ہیں۔انقلاب کیسے برپا ہوا، کون سا جہاد تھا جس کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوعظیم الشان غلبہ نصیب ہوا اس سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انقلاب دعاؤں کے ہی نتیجہ میں رونما ہوا تھا۔آپ فرماتے ہیں:۔" وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں یکدفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا ؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچا دیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس امی بے کس سے محالات کی طرح نظر آتی تھی اللهم صل وسلم و بارك عليه و آله برکات الدعا روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 10-11 ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تحریر کے مقابلہ پر مودودی صاحب کی تحریر پڑھ کر دیکھ لیجئے دونوں میں ایک فرق بین ہے، بعد المشرقین یعنی مشرق اور مغرب کا فرق ہے۔ایک طرف روح حق اور روح اسلام بول رہی ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قلب مطہر پر جلوہ افروز ہوئی اور پاک کلام کی صورت میں آپ کی زبان مبارک سے جاری ہوئی۔یہ وہ آواز ہے جس نے ہمیں غلبہ اسلام کی قوت کے سرچشمہ کی راہ دکھائی اور ہماری تشنہ روحوں کو سیراب کیا، جس نے اس ازلی و ابدی صداقت سے ہمیں روشناس کرایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبہ اور قوت ، شوکت اور سطوت کا راز آپ کی قوت قدسیہ میں نہاں تھا۔جو مقبول دعاؤں کی صورت میں ایک گھٹا بن کر اٹھی اور مخالف کی ہر اس آگ کو ٹھنڈا کر دیا جو صحرائے عرب میں بھڑ کائی گئی تھی اور خشک وتر اور بحر ویر کو