ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 293 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 293

293 مساجد کے رخ بدل لینے کا مضحکہ خیز مطالبہ اسلام کی بدنامی کا موجب ہوا " پھر کہتے ہیں کہ اپنی مسجدوں کے رخ بدل دو یہ اسلامی شعائر کے خلاف ہے۔جب ہم نے کہہ دیا ہے کہ اسلام سے تمہارا تعلق نہیں تو تمہاری مسجدوں کے رخ بدل جانے چاہئیں، قبلے بدل جانے چاہئیں۔درحقیقت پہلا دعوی بھی خدائی ہی کا دعوی ہے، عالم الغیب ہونے کا دعویٰ بھی ہے۔اور یہ دعویٰ بھی ہے کہ ہم تمہارا مذ ہب معین کریں گے اور جو مذہب ہم قرار دیں اس پر تمہیں چلنا لازم ہوگا۔اور ہمارے مذہب کا ان کے نزدیک اب خلاصہ یہ ہے کہ حضرت جل شانہ حضرت احدیت کا انکار کیا جائے اور توحید کا انکار کر دیا جائے اور حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور عبدیت کا انکار کر دیا جائے۔یہ مذہب ان کے دماغوں نے تجویز کیا جماعت احمدیت کے لئے۔مذہب تو خدا بنایا کرتا ہے اور ہم تمہارے جیسے خداؤں کا انکار کرتے ہیں اور لاکھ مرتبہ نہیں کروڑوں مرتبہ ہر احمدی اپنے عمل کے ہر لمحے اس کے ہر جزء کے ساتھ تمہاری خدائی کا انکار کر رہا ہے۔اس لئے جو چاہو کرو۔مشرکوں سے سبق سیکھو یا ان سے آگے بڑھ جاؤ لیکن احمدیت تمہیں خدا قبول کرنے کے لئے کسی قیمت پر بھی کسی لمحہ بھی تیار نہیں ہوگی تمہیں غیر اللہ کی عبادت کا شوق ہے یہ عادتیں پڑ چکی ہیں تو بے شک کرتے رہو۔ہمارا یہ اصول نہیں کہ غیر کے مذاہب میں دخل دیں۔تمہیں تمہارے مذہب مبارک ہوں لیکن احمدیت کا تو وہی مذہب ہے جو قرآن اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا مذہب تھا اور ہے اور رہے گا۔اور کوئی دنیا کا مولوی اس مذہب کو تبدیل نہیں کرسکتا۔کوئی دنیا کی استبدادی حکومت اس مذہب کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ان کی آواز یہ ہے کہ رخ بدلو مسجدوں کا ہمیں تسلی ہو جائے گی۔تمہاری تسلی سے ہمیں غرض کیا ہے ہم تو اپنے خدا کی تسلی چاہتے ہیں، ہم تو اپنے نفوس کی تسلی چاہتے ہیں، اپنے قلوب کی تسلی چاہتے ہیں۔تمہاری تسلی نہیں ہوتی تو نہ ہو۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے کب کفار مکہ کی تسلی کروائی تھی اور ان مشرکین کی تسلی کروائی تھی جو تمہارے نزدیک کلمہ پڑھنے والوں اور نماز پڑھنے والوں اور عبادت کرنے والوں سے یہ سلوک کیا کرتے تھے۔کسی احمدی کے الفاظ نہیں ہیں جس پر تم غصہ کرو۔تمہارے ناظم اعلی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کا یہ اعلان ہے کہ بعینہ ہم احمدیوں سے آج وہ سلوک کر رہے ہیں جو کسی زمانہ میں مشرکین مکہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کرتے تھے۔اس لئے تمہارا مذہب تمہیں مبارک ہو ہم تو دخل اندازی کے قائل نہیں ہیں اور تمہارے کہنے پر ہم تو اپنا مذ ہب نہیں بدلیں گے۔" خطبات طاہر جلد 5 صفحہ 424-425) مودودیت کا تصور جہاد اسلام کی بدنامی کا باعث ہے حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ نے 15 فروری 1985ء کو ایک خط میں قرطاس ابیض کے جواب کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے جہاد کا اسلامی تصور کھول کر بیان فرمایا اور فرمایا کہ مودودیت کے تصور جہاد سے اسلام پر قدغن آتی ہے جس سے توہین رسالت ہوتی ہے۔اس خطبہ کے اخیر میں تجزیہ بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔مودودی صاحب کہتے ہیں اللہ کو کیا پتہ میں جانتا ہوں کہ جب تک تلوار استعمال نہیں ہوئی پر دے چاک نہیں