ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 292 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 292

292 ہوئی تھیں کہ اس طرح تم ایک دوسرے کا خون کر رہے ہو۔اس طرح یہ ہورہا ہے اس طرح وہ ہو رہا ہے۔ہر بدی جس کے خلاف اسلام نے جہاد کیا وہ تمہارے اندر قائم ہو چکی ہے، راسخ ہو چکی ہے اور باتیں کرتے ہو کہ ہم اسلام کے نام پر قائم ہوئے تھے۔وہ تو یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ جنگ مسلمان اور غیر مسلم کی جنگ نہیں ہے ان کا مقصد تو یہ تھا کہ دنیا کو یہ بتائیں کہ مسلمان ممالک بیجا پاکستان کی حمایت نہ کریں کیونکہ ہرگز یہاں اسلام اور غیر اسلام کا مقابلہ نہیں ہے بلکہ ایک غیر اسلامی اقدار میں ہندوستان سے آگے بڑھے ہوئے ملک کا ایک ایسے غیر مسلم ملک سے مقابلہ ہے جو نسبتاً اسلامی اقدار سے کچھ زیادہ تعلق رکھتا ہے اگر چہ اسلام کے نام پر نہ بھی ہو یعنی یہ موازنہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔لیکن مسلمان کے لئے ایک ہندو ملک کی ایمبیسی (Embassy) کی طرف سے شائع ہو نیوالا یہ لٹریچر تو ایسالٹر بیچر ہے کہ وہ شرم سے کٹ مرے۔خطبات طاہر جلد 9 صفحہ 276-278) مقدس اصطلاحوں کے بے محل استعمال سے مسلمان اسلام کی بدنامی کا موجب بن رہے ہیں " جاہلانہ طور پر اسلام کی مقدس اصطلاحوں کو بے محل استعمال کر کے مسلمان اسلام کی مزید بدنامی کا موجب بنتے ہیں۔ساری دنیا میں اسلام سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے اور قومیں تمسخر کرتی ہیں اور یہ اپنی بے وقوفی میں سمجھتے ہی نہیں کہ ہم کیا بات کر رہے ہیں لیکن عوام الناس کے متعلق یہ سوچنا چاہئے کہ وہ کیوں آخر بار بارا اپنے را ہنماؤں کے اس دھو کے میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور غیر معمولی قربانیاں ان جنگوں میں پیش کرتے ہیں جو درحقیقت جہاد نہیں۔لیکن انہیں جہاد قرار دیا جارہا ہے۔کوئی گہری اس کی وجہ ہے اس کے اندر در حقیقت کوئی راز ہے جس کو معلوم کرنا چاہئے اور اگر ہم اس راز کو سمجھ جائیں تو یہ بھی سمجھ جائیں گے کہ مغربی قو میں جہاد کے اس غلط استعمال کی بڑی حد تک ذمہ دار ہیں اور وہ جو تمسخر کرتی ہیں اور اسلام پر ٹھٹھا کرتی ہیں اگر اس صورتحال کا صحیح تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ خود بہت حد تک جہاد کے اس غلط استعمال کی ذمہ دار ہیں۔وجہ اس کی یہ ہے کہ عالم اسلام پر گزشتہ کئی صدیوں سے یہ بالعموم تاثر ہے، یہ ایک ایسا مہم سا تاثر ہے جس کی معین پہچان ہر شخص نہیں کر سکتا بعض دفعہ مہم خوف ہوا کرتے ہیں یہ نہیں پتا ہوتا کہ کہاں سے آ رہا ہے کیوں ہے لیکن ایک انسان خوف محسوس کرتا ہے۔بعض دفعہ تکلیف محسوس کرتا ہے۔لیکن اس کی وجہ نہیں سمجھ رہا ہوتا۔تو انسانی تعلقات میں بعض دفعہ بعض تا ثرات انسان کی طبیعت میں گہرے رچ جاتے ہیں، گہرے اثر پذیر ہو جاتے ہیں اور ان تاثرات کی وجہ ایک لمبی تاریخ پر پھیلی ہوتی ہے۔مغرب نے مسلمانوں سے گزشتہ کئی سوسال میں جو سلوک کیا ہے اس سلوک کی تاریخ مسلمانوں کو یہ یقین دلا چکی ہے کہ ان کی مسلمانوں سے نفرت مذہبی بنا پر ہے اور اسلام کا نام خواہ یہ لیں یا نہ لیں لیکن مسلمان قوموں کی ترقی یہ دیکھ نہیں سکتے اور مسلمان قوموں کے آگے بڑھنے کے خوف سے یہ ہمیشہ ایسے اقدام کرتے ہیں کہ جس سے ان کی طاقت پارہ پارہ ہو جائے۔یہ گہرا تاثر ہے جو مسلمان عوام الناس کے دل میں موجود ہے خواہ انہوں نے بھی تاریخ پڑھی ہو یا نہ پڑھی ہو۔" خطبات طاہر جلد 10 صفحہ 61-62)