ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 291 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 291

291 عالم اسلام بالخصوص پاکستان غیر اسلامی اقدار میں آگے بڑھ چکا ہے پس ان سب بلاؤں کا تو درحقیقت ایک ہی علاج ہے کہ یہ سب سے بڑی بلا جو ملاں ہے ساری قوم اس پر لعنت ڈالے اور دعائیں کرے اور گڑ گڑائے کہ اے خدا!! ہمیں اس لعنت سے نجات بخش کیونکہ جب تک یہ لعنت ملک پر سوار ہے کبھی بھی اس ملک کے لئے کوئی نجات کی راہ نہیں نکل سکتی۔پس اگر کبھی پہلے ضرورت تھی کہ ملاں سے چھٹکارا حاصل کیا جائے اور ساری قوم متحد ہو کر اس لعنت سے نجات پانے کا فیصلہ کرے تو آج یہ وقت ہے کیونکہ آج پاکستان کا ملاں پاکستان کی زندگی اور موت کا سوال بن کر کھڑا ہوا ہے اگر یہ ملاں اپنی اس نحوست کے ساتھ باقی رہا تو یہ ملک باقی نہیں رہ سکتا اس لئے ہر وہ محب وطن جس کو پاکستان سے پیار ہے ہر وہ اسلام سے محبت کرنے والا جس کو اسلامی قدروں سے پیار ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اس ملاں کے خلاف علم بغاوت بلند کرے اور قوم میں یہ احساس پیدا کرے کہ یہ اسلام کے ہمدرد اور اسلام سے پیار کرنے والی قوم نہیں بلکہ ظالم اور سفاک لوگ ہیں جن کو اسلامی قدروں کو پامال ہوتے دیکھنے کے باوجود کوئی دکھ نہیں ہوتا کوئی شعور بیدار نہیں ہوتا اور ظلم اور سفا کی کو عام ہوتے ہوئے دیکھنے کے باوجود ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ، ان کو کوئی احساس نہیں ہوتا کہ یہ کیا ظلم ہو رہے ہیں اور اس کے باوجود اسلامی شریعت کا نام ہے جو ڈنکے کی چوٹ لیا جارہا ہے اور ساری دنیا میں اعلان ہو رہا ہے کہ ہم سب سے زیادہ اسلام سے محبت کرنے والے، اسلام کو نا فذ کرنے والے ہیں۔شراب خوری اتنی عام ہو چکی ہے کہ عام خبروں سے پتا چلتا ہے کہ یہ تو اب کوئی کبھی کبھار سننے والا واقعہ نہیں رہا یہ تو روز مرہ زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔قوم کی ایک بھاری تعداد Drug Addiction میں مبتلا ہو چکی ہے یعنی وہ جو نشہ آور دوائیں ہیں ان کی عادی بن رہی ہے یا ان کی تجارت کر رہی ہے۔ہر قسم کی بدیاں جو سوچی جاسکتی ہیں وہ اس وقت اس قوم پر نافذ ہو چکی ہیں۔اس لئے یہ وقت ہے کہ دعاؤں کے ذریعے پاکستان کی مدد کی جائے اور اگر چہ ساری دنیا میں ایک سو بیس ملکوں کے احمدی پاکستانی تو نہیں ہیں لیکن پاکستان کے متعلق میں بارہا پہلے کہہ چکا ہوں کہ پاکستان سے ایک لمبے عرصے تک اسلام کا نام بلند ہوا ہے اور دنیا کے کونے کونے تک پہنچا ہے اور یہ ایک سو میں ملک کسی نہ کسی رنگ میں جہاں ہندوستان کے زیر احسان ہیں کہ وہاں سے اسلام کی احیاء نو کا آغاز ہوا تھا، وہاں پارٹیشن کے بعد پاکستان کے بھی زیرا احسان ہیں۔پس آج ان دونوں ملکوں کے لئے دعا کرنی چاہئے لیکن پاکستان کے لئے خصوصیت سے اس لئے کہ یہ اسلام کے نام پر قائم کیا گیا تھا اور اسلام کے نام پر قائم ہونے کے باوجود ہر غیر اسلامی حرکت کی آماجگاہ بن چکا ہے۔یہاں تک کہ ہندوستان کی ایمبیسی کی طرف سے حال ہی میں کچھ پمفلٹس تقسیم ہوئے ہیں۔ان پمفلٹس میں سے ایک کو دیکھ کر تو میرا سر شرم سے جھک گیا اور یوں لگتا تھا جیسے دل کٹ گیا ہے۔ہندوستان کی حکومت پاکستان کو یہ بتارہی تھی کہ تم نے اسلام کے نام پر یہ ملک قائم کیا تھا۔یہ حرکتیں جو تم لوگ کر رہے ہو کیا یہ اسلامی حرکتیں ہیں ؟ اور وہ حرکتیں گنائی