ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 290 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 290

290 اللہ اس وقت سے ہمیں بچائے اور محفوظ رکھے اور اس قوم کو عقل دے اور ان کے تالوں کو توڑ دے۔یہ ہوش سے بیدار ہوں کہ کہاں سے آئے تھے اور کہاں چلے گئے۔خطبہ ثانیہ میں فرمایا :۔یہ خطبہ زیادہ تر قوم سے ہی خطاب تھا تو بحیثیت مجموعی اس میں احمدی کے لئے کوئی نمایاں الگ پیغام تو نہیں تھا لیکن یہ میں جانتا ہوں اور ہر احمدی کو علم ہے اس لئے کسی الگ پیغام کی میں نے ضرورت محسوس نہیں کی کہ احمدی کسی قیمت پر بھی کلمہ سے جدا نہیں ہوں گے۔ان کی زندگیاں ان کو چھوڑ سکتی ہیں مگر کلمہ احمدی کو نہیں چھوڑے گا اور احمدی کلمہ کو نہیں چھوڑے گا۔ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر سکتی ہے مگر کلمہ کو ساتھ لے کر اٹھے گی اور ناممکن ہے کہ ان کی روح سے کلمہ کا تعلق کاٹا جائے۔ان کی رگ جان تو کائی جاسکتی ہے مگر کلمہ کی محبت کو ان سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔احمدیوں کی کیفیت تو یہ ہے کہ جس طرح حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری وجود کو جب خطرہ تھا تو انصار کے دل سے ایک بے ساختہ آواز اٹھی تھی کہ یا رسول اللہ ! ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور آپ کے بائیں بھی لڑیں گے اور خدا کی قسم دشمن نہیں پہنچ سکتا آپ تک جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ نکلے۔(السیرۃ الحلبیہ جلد دوم نصف اول صفحہ : ۳۸۵ ذکر غزوة بدر ) آج حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہری وجود تو ہم میں نہیں ہے لیکن آپ کی یہ پاک نشانی ہمیں دل و جان سے زیادہ پیاری ہمارے اندر موجود ہے یعنی وہ کلمہ طیبہ جس میں توحید باری تعالیٰ کا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ اتصال ہوتا ہے جو کچھ بھی عزیز تر ہو سکتا ہے انسان کو وہ سب اس میں مجتمع ہے اس لئے ہم حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے یہ وعدہ ضرور کرتے ہیں کہ اے خدا کے پاک رسول جو سب محبوبوں سے بڑھ کر ہمیں محبوب ہے خدا کی قسم تیری اس پاک نشانی تک ہم لوگوں کو نہیں پہنچنے دیں گے۔ہم اس کے آگے بھی لڑیں گے اور اس کے پیچھے بھی لڑیں گے اور اس کے دائیں بھی لڑیں گے اور اس کے بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن کے ناپاک قدم نہیں پہنچ سکیں گے جب تک ہماری لاشوں کو روندتے ہوئے یہاں تک نہ پہنچیں۔اس لئے یہ تو ہر احمدی کے دل کی آواز ہے۔میں نے یہ سوچا کہ چونکہ ظاہری طور پر ذکر نہیں تھا میں خطبہ ثانیہ کے درمیان اس کا ذکر کر دوں ورنہ احمدی یہ نہ سمجھیں کہ دوسروں کی باتیں تو بتاتے رہے ہیں ہمارے دل کی کیفیات کو آواز نہیں دی ، ان کو زبان عطا نہیں کی تو یہ وہ زبان اور کچی زبان ہے جو ہر احمدی کے دل کی زبان ہے۔آسمان کا خدا اس زبان کو سنے گا اور اسے ضائع نہیں کرے گا۔ہر قربانی کے لئے آپ تیار ہیں، کوئی بھی پرواہ نہ کریں۔یہ وہ مقام ہے جہاں سے ایک قدم بھی ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ہمارے پیچھے کلمہ کا ایک پہاڑ ہے جو ہماری پشت پناہی کر رہا ہے اس لئے اب ہمارے لئے آگے بڑھنے کا راستہ تو ہے پیچھے ہٹنے کا ایک قدم بھی باقی نہیں رہا۔یہ وہ دامن ہے کلمہ کا جہاں ہم سب کچھ نچھاور کر نے کیلئے تیار ہیں پھر دشمن جو چاہتا ہے آزما کر دیکھ لے کسی ایک احمدی کو بھی بزدل اور کمزور اور زنخا بنا ہوانہیں پائے گا۔انشاء اللہ تعالی۔" ( خطبات طاہر جلد 3 صفحہ 720-721)