ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 289 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 289

289 بتعلیمی معدودے چند ہیں اُس اُمت کے مقابل پر جومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو رہی ہیں چند لیکن آپ کو خدا نے یہ عقل دی ہے۔آپ کا یہ کام ہے کہ تمام دنیا کے معاشرے کو بدیوں سے پاک کرنے کے لئے اعلانِ جنگ کریں۔یہ جہاد شروع کریں، ہر جگہ اپنے دفتر کے ماحول میں، اپنے کاروبار، اپنی دکان کے ماحول میں ، اپنے ع ماحول میں، اپنے دوستوں کے تعلقات کے ماحول میں، جہاں بھی آپ جائیں وہاں بُرائیوں کے خلاف جہاد شروع کر دیں اور ہر قوم کی مخصوص بُرائیاں ہیں۔پاکستان کی اپنی بُرائیاں ہیں، ہندوستان کی اپنی ہیں اور انگلستان کی اپنی ہیں ، اور ضروری نہیں کہ ہند و پاکستان کے معاشرے چونکہ ملتے ہیں اس لئے ان کی بُرائیاں بھی ایک جیسی ہوں۔" (خطبات طاہر جلد 11 صفحہ 301-302) یہ لوگ ناموس رسالت کے نام پر حضرت محمد کے نام پر سیاہیاں مل رہے ہیں " آج یہ آوازیں بلند کرنے لگے ہیں کہ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ کلمہ مٹانا چاہئے ،کسی کافر کی زبان سے بھی اگر کلمہ نکلے گا تو ہمیں خوش ہونا چاہئے کیونکہ ہمارے محبوب کا نام ہے، خدا کی تو حید کا اعلان ہے۔کوئی مشرک بھی یہ اعلان کرے گا تو ہمارے دل باغ باغ ہو جانے چاہئیں کہ دیکھو اللہ کی توحید کا ایک مشرک کی زبان سے بھی اعلان ہونے لگا ہے۔تو یہ آوازیں بڑھ رہی ہیں اور پھیل رہی ہیں۔نہ اس حکومت کو پتہ ہے کہ کیا ہو رہا ہے اور خدا کی تقدیر کس طرح ان کے ساتھ کھیل رہی ہے اور کیا ارادے رکھتی ہے ان کے ساتھ ، اور نہ ان بدقسمتوں کو پتہ ہے جو چند پیسوں کی خاطر خدا کے نام پر تو حید کے علمبر دار کہلاتے ہوئے بھی تو حید کو مٹانے کے درپے ہو چکے ہیں جو ناموس مصطفی " کے نام پر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے اوپر سیاہیاں پھیرنے میں باک محسوس نہیں کرتے۔بہت ہی خوفناک اور دردناک دن آنے والے ہیں پاکستان پر لیکن میں پاکستان کے عوام سے اپیل کرتا ہوں خواہ وہ بریلوی ہوں ، خواہ وہ دیوبندی ہوں، خواہ وہ شیعہ ہوں، کسی طبقہ فکر سے تعلق رکھتے ہوں وہ براہ راست علما کی کھیلوں میں ملوث نہیں ہوا کرتے لیکن ایک سادہ لوح مسلمان کے طور پر جہاں تک عوام کا تعلق ہے ان میں بریلوی کیا اور دیو بندی کہلانے والے کیا اور وھابی کیا اور دیگر فرقوں کے لوگ کیا ان کے سادہ سے ایمان میں کلمہ کو ایک نمایاں شان حاصل ہے۔اگر وہ غریب بھی ہیں تو ان کی گودڑیوں میں لعلوں کی طرح کلمے چمک رہے ہیں۔یہ وہ آخری چیز ہے جوان کی زندگی کا سرمایہ ہے جس سے وہ بے انتہا محبت کرتے ہیں، تو میں ان کو اس محبت کا واسطہ دے کر کہنا چاہتا ہوں کہ اٹھو اور بیدار ہو اور ہر اس تحریک کی مخالفت کرو جو کلمہ مثانے کی تحریک آپ کے پاک وطن سے اٹھتی ہے، مخالفت کرو اور بیدار ہو جاؤ اور حرکت میں آؤ کیونکہ اگر تم وقت پر حرکت میں نہیں آؤ گے تو خدا کی قسم خدا کی تقدیر تمہارے خلاف حرکت میں آجائے گی اور اس ملک کو مٹا کر رکھ دے گی جو آج کلمہ کے نام کو مٹانے کے درپے ہوا ہوا ہے۔جس ملک کو کلمہ نے بنایا تھا، کلمہ میں اتنی طاقت ہے کہ اگر اس کلمہ کو مٹانے کے لئے وہ سارا ملک بھی اکٹھا ہو جائے تو وہ کلمہ پھر بھی غالب آئے گا اور وہ ملک اس کلمہ کے ہاتھوں سے تو ڑا جائے گا جس کو کسی زمانہ میں اسی کلمہ نے بنایا تھا۔