ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 8 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 8

8 میں ڈال دیں اور وہ ایک قاش میں نے اس نئے زندہ کو دے دی اور اس نے وہیں کھالی۔پھر جب وہ نیا زندہ اپنی قاش کھا چکا تو۔(براہین احمدیہ از روحانی خزائن جلد 1 صفحه 275-276 بقیه حاشیه در حاشیہ نمبر 1) پھر میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کرسی اونچی ہو گئی ہے حتی کہ چھت کے قریب جا پہنچی ہے اور میں نے دیکھا کہ اس وقت آپ کا چہرہ مبارک ایسا چپکنے لگا کہ گویا اس پر سورج اور چاند کی شعاعیں پڑ رہی ہیں اور میں ذوق اور وجد کے ساتھ آپ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھ رہا تھا اور میرے آنسو بہہ رہے تھے۔پھر میں بیدار ہو گیا اور اس وقت بھی میں کافی رورہا تھا اور اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ وہ مُردہ شخص اسلام ہے اور اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فیوض کے ذریعہ سے اسے اب میرے ہاتھ پر زندہ کرے گا۔" ( ترجمه عربی عبارت آئینہ کمالات اسلام از روحانی خزائن جلد 5 صفحه 549) نوجوانی کے عالم میں اسلام کے خلاف ہونے والے اعتراضات کو اکٹھا کرنا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی عمر ابھی پندرہ سولہ سال ہی تھی کہ آپ کی شادی حضرت حرمت بی بی صاحبہ بنت مرزا جمعیت بیگ صاحب سے ہو گئی۔آپ اس وقت تعلیمی دور سے گزر رہے تھے۔یہ شادی نہ تو تعلیم میں رکاوٹ بنی اور نہ ہی خلوت نشینی میں حائل ہوئی بلکہ اس شادی کے بعد آپ کے دل میں محبوب حقیقی کی محبت کا جذبہ طوفان بن کر اٹھا اور آندھی کی طرح آپ کے رگ وریشہ پر چھا گیا۔دینی مطالعہ کا شغف اور شوق پہلے سے ترقی کر گیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کے دل ودماغ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشہ عشق سے ایسے مخمور ہوئے کہ آپ دین مصطفے کی بے بسی اور غیر مذاہب کی نا قابل برداشت چیرہ دستیوں سے دلفگار رہنے لگے۔اسی وقت سے آپ نے معاندین اسلام کے ان اعتراضات کو جمع کرنے کی مہم شروع کر دی جو سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفات پر چاروں طرف سے کئے جارہے تھے اور جنہیں سن سن کر آپ کا دل کباب ، سینہ چھلنی اور آنکھیں اشکبار ہو ہو جاتی تھیں۔آپ فرماتے ہیں:۔میں سولہ سترہ برس کی عمر سے عیسائیوں کی کتابیں پڑھتا ہوں اور ان کے اعتراضوں پر غور کرتا رہا ہوں میں نے اپنی جگہ ان اعتراضوں کوجمع کیا ہے جو عیسائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پرکرتے ہیں ان کی تعداد تین ہزار کے قریب (الحام 30 - اپریل 1900 ء) پہنچی ہوئی ہے۔" آپ اپنے پہلو میں اسلام اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا جونم لئے اس دنیا میں آئے تھے وہ ہر لمحہ سیل رواں کی طرح بڑھتا ہی گیا اور آپ اسلام کی حالت دیکھ کر ہر وقت مضطرب اور بے چین رہنے لگے۔حضرت مولوی فتح الدین صاحب دھرم کوئی ، آپ کے ابتدائی زمانہ کے متعلق بیان کرتے ہیں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور اکثر حاضر ہوا کرتا تھا اور کئی مرتبہ حضور کے پاس ہی رات کو بھی قیام کیا کرتا تھا۔ایک مرتبہ میں نے دیکھا۔کہ آدھی رات کے قریب حضرت صاحب بہت بیقراری سے تڑپ