ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 287 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 287

287 آرام سے بیٹھے رہے اور تم نے اپنے سیاسی مشاغل اور سیاسی مطالب کی خاطر ایک ذرہ بھی اس بات کی پرواہ نہیں کی۔پھر یہ آسمان اور زمین تم پر رحمت نہیں بھیجیں گے اور نہ کبھی تمہارا نام عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔" (خطبات طاہر جلد 4 صفحہ 241-243) مردان میں قرآن پھاڑ کر گندی نالیوں میں بہانے کی بے حرمتی پر حضور کی غیرت اور رد عمل " یہی نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ بھیانک جرائم کی وہاں سے یہ اطلاع ملی ہے کہ ان لوگوں نے جنہوں نے اسلام کے نام پر مسجد کو شہید کرنا شروع کیا۔مسجد احمدیہ سے جتنے قرآن کریم نکلے ان کو پھاڑ کر وہاں گندی نالیوں میں پھینکا ، ان کو پاؤں تلے کچلا اور بعض بد بختوں نے اس پر پیشاب کیا اور ساتھ نعرہ ہائے تکبیر بلند ہورہے تھے اور ساتھ یہ اللهم لبيك اللهم لبيك کہا جارہا تھا۔اس سے بڑی بد بختی کبھی کسی قوم کے ماتھے پر نہیں لکھی گئی تھی جتنی آج کے بد بخت صدر اور اس کے ملانوں کے ماتھوں پر یہ کلنک کے ٹیکے لگائے گئے ہیں۔اپنے ہاتھوں سے انہوں نے ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو ذلیل و خوار کر لیا ہے۔قیامت تک تاریخ بھی ان پر لعنت ڈالے گی اور آسمان کے فرشتے بھی ان پر لعنت ڈالتے چلے جائیں گے۔یہ اسلام کا حال کرنے کے لئے ایک فوجی استبداد کی حکومت اٹھی تھی جس نے آج قوم کو اس طرح ہلاکت کے کنارے تک پہنچا دیا ہے۔اور مردان کے کسی غیور پٹھان کو غیرت نہیں آئی کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔وہ احمدی جوحراست میں تھے اگر ان میں سے کوئی ہوتا تو وہ اپنی جان کی بازی لگا دیتا، وہ خون کا آخری قطرہ بہا دیتا مگر یہ ذلت قرآن کریم کی برداشت نہ کر سکتا تھا لیکن سارا شہر آباد تھا غیور پٹھانوں سے اور کسی کو غیرت نہیں آئی۔کسی کو خیال نہیں آیا کہ ان لوگوں کو جا کر پکڑیں پوری طرح باز پرس کر یں ان سے۔ہر قیمت پر ان کو اس بے حیائی سے روکیں کہ اسلام کے نام پر اسلام کی سب سے مقدس کتاب بلکہ کائنات میں جتنی بھی کتا بیں نازل ہوئیں ان سب کی سرتاج ، ان سب سے زیادہ مقدس کتاب کی ایسی بے حیائی کے ساتھ مسلمان بے عزتی اور رسوائی کر رہے ہوں اور کسی کو کچھ خیال نہ آرہا ہو۔صرف اس لئے کہ جماعت احمدیہ کی مساجد میں وہ قرآن کریم ملتا تھا اس لئے اس قرآن کریم کی کوئی عظمت اور کوئی حرمت باقی نہیں رہی انکے نزدیک۔میں نے ذکر کیا تھا گزشتہ مرتبہ کہ یہ سب کچھ ایک طرف جہاں اسلام کے نام پر ہو رہا ہے اور تحریک کا آخری مقصد یہ ہے کہ زبر دستی مسلمانوں کو غیر مسلم بنا کے چھوڑیں گے۔جب تک ہم یہ نہ کر لیں چالیس لاکھ مسلمان کلمہ گوکلمہ سے توبہ نہ کر لیں ، خدا کی تو حید کا انکار نہ کر لیں ، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب نہ کریں اس وقت تک ان کے دل کو چین نہیں آئے گا، اس وقت تک ان کے سینے ٹھنڈے نہیں ہوں گے اور اگر نہیں کریں گے تو وہ ان کے گھروں کو آگئیں لگائیں گے، ان کی مساجد مسمار کریں گے، ان کو قید خانوں میں ڈالیں گے، ان پر جھوٹے قتل کے مقدمے چلائیں گے۔جو کچھ ان سے بن سکا بنا ئیں گے لیکن یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ چالیس لاکھ مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھ رہے ہوں اور خدا تعالیٰ کی وحدت کے گیت گا رہے ہوں۔" (خطبات طاہر جلد 5 صفحہ 574-575)