ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 286 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 286

286 ہوا تھا آج اس کی وحدانیت پر حملہ کیا جارہا ہے۔آج مکہ اور مدینہ کا سوال نہیں آج تو ہمارے آقا و مولا شاہ مکی و مدنی کی عزت و حرمت کا سوال ہے۔آج سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کے سینوں میں کوئی غیرت باقی نہیں رہی، کیا یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں کے ہاتھ کلمہ مثانے کی طرف اٹھ رہے ہیں ان پر لرزہ طاری نہیں ہو جا تا؟ کیا ان کے دل پر زخم نہیں لگتے ؟ ستم بالائے ستم یہ کہ جب کوئی مسلمان اس کام کے لئے نہیں ملتا تو پاکستان کی اس آمرانہ حکومت میں اسلام کے دشمن عیسائیوں کو اس کام کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور جب کوئی شریف شہری نہیں ملتا تو حوالات یا جیل خانوں سے مجرم پکڑ کر لائے جاتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے پاک کلمہ طیبہ مٹوایا جاتا ہے جس میں یہ اقرار ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔پس یہ نا پاک تحریک جو آج صدر ضیاء الحق کی کوکھ سے جنم لے رہی ہے وہ اس دنیا میں بھی اس کے ذمہ دار ہیں اور قیامت کے دن بھی اس کے ذمہ دار ہوں گے۔پھر نہ تو انہیں دنیا کی کوئی طاقت بچا سکے گی اور نہ کوئی مذہبی طاقت ان کو بچا سکے گی کیونکہ آج انہوں نے خدا کی عزت و جلال پر حملہ کیا ہے۔آج محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک نام کے تقدس پر حملہ کیا ہے۔احمدی تیار ہیں، وہ کلمہ کی حفاظت میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اور ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔مگر سوال یہ ہے کہ اے عالم اسلام ! تم کیوں اس سعادت سے محروم بیٹھے ہو۔کیا تم میں اسلام کی ہمدردی ، اس کی غیرت اور کلمہ توحید کی محبت کی کوئی رمق بھی باقی نہیں رہی؟ پس میں تمہیں اس وحدت کی طرف بلاتا ہوں جس میں سارا عالم اسلام مشترک ہے۔عالم اسلام کی ایک ہی تو جان ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں اور کوئی شک نہیں۔شیعہ بھی کلمہ توحید سے اسی طرح وابستہ ہے جیسے سنی وابستہ ہے، احمدی بھی اسی طرح وابستہ ہے جس طرح وہابی اور دیگر فرقوں والے وابستہ ہیں۔کلمہ اسلام کی روح ہے لیکن آج اسلام کی اس روح پر حملہ کیا جارہا ہے۔اس لئے میں تمہیں غار حرا کے نام پر بلاتا ہوں جس سے ایک دفعہ صوت حق اس شان سے نکلی تھی کہ اس نے سارے عالم پر لرزہ طاری کر دیا تھا، میں تمہیں سیدنا بلال حبشی کے نام پر بلاتا ہوں کہ آؤ تم بھی اس غلام سے سبق سیکھو جس نے کلمہ کی حفاظت کے لئے اپنے سارے آرام تسج ڈالے تھے اور ایسے ایسے دکھ برداشت کئے کہ آج ان کے تصور سے بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔پس اے مسلمانو! اگر تم آؤ اور اس نیک کام میں احمدیوں کے ساتھ شامل ہو جاؤ تو ، میں تمہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ تم ہمیشہ زندہ رہو گے اور دنیا کی کوئی طاقت تمہیں مٹا نہیں سکے گی ہم زمین پر بھی اجر پاؤ گے اور آسمان پر بھی اجر پاؤ گے اور خدا تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں ہمیشہ تمہارے کا شانوں پر برستی رہیں گی۔لیکن اگر تم نے اس آواز پر لبیک نہ کہا تو پھر اس دنیا میں تم سے بڑھ کر اور کوئی مجرم نہیں کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتے ہوئے جب آپ کے مقدس نام پر حملہ کیا گیا اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہوئے جب اس کی وحدانیت پر حملہ کیا گیا تو تم