ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 285
285 کرنے کے لئے تیار ہوئے اور یہ فیصلہ کیا کہ کلمہ شہادت کی عزت اور ناموس پر حرف نہیں آنے دیں گے خواہ ان کی گردنیں تختہ دار پر لٹکا دیں جائیں اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بیوی اور بچوں کی بیوگی اور یتیمی کو قبول کرلیں گے لیکن یہ نہیں قبول کریں گے کہ خدا کی عبادت گاہوں کو دنیا کے ذلیل انسان اپنے گندے پاؤں تلے روندیں اور ان کی عصمت کے ساتھ کھیلیں۔انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہر حال میں ہر قیمت پر ہر قربانی دیتے ہوئے ہم کلمہ طیبہ کی حفاظت کریں گے اور اپنی مسجدوں کی ناموس کی حفاظت کریں گے۔پس انہوں نے تو اپنی راہیں متعین کرلیں فَمِنهُم مَّن قَضَى نحبه ، ( الاحزاب : 24 ) کے فیصلے کو پورا کر دیا۔اے پیچھے رہنے والو! کیا تم ان راہوں سے پیچھے ہٹ جاؤ گے؟ اے پیچھے رہنے والو! کیا تم ان آگے بڑھنے والوں کو ہمیشہ کے لئے خالی چھوڑ دو گے؟ آج تم پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ان خدا کی خاطر مصیبتیں برداشت کر نیوالوں کے ساتھ وفا کا تقاضا ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن اور خدا کے ساتھ وفا کا تقاضا ہے کہ ان راہوں سے نہیں پیچھے ہٹنا ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹنا آگے بڑھنا ہے۔اگر چالیس لاکھ احمدی کی لاشیں پاکستان کی گلیوں میں کتے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں تم کو تاکید کرتا ہوں کہ خدا کے نام کے کلمے اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے کلمے کو آنچ نہیں آنے دینی۔پس آگے بڑھو اور یقین رکھو کہ آخر غلبہ تمہارا ہے، آخر فتح تمہاری ہے کیونکہ خدا کے نام پر مرنے کے لئے تیار رہنے والوں کو کبھی موت مار نہیں سکی کبھی کوئی دشمن ان پر فتح یاب نہیں ہو سکا۔اپنی دعاؤں میں التزام اختیار کرو۔" آج اللہ، اس کے رسول کی عزت و حرمت اور کلمہ پر حملہ ہے اس لیے احمدی تیاررہیں " خطبات طاہر جلد 5 صفحہ 169-170 ) یہ وہ حالات ہیں جو اس وقت پاکستان میں رونما ہورہے ہیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اسلام کے نام پر مسلط کی جانے والی ایک آمرانہ حکومت اسلام کی بنیادوں پر نہایت ہی خوفناک حملے کر رہی ہے اور عالم اسلام غفلت میں سویا پڑا ہے۔یہ دور سائل جن کا میں نے ذکر کیا ہے، اس وقت لکھے گئے تھے جب کہ فلسطین کو خطرہ تھا اور فلسطین کے نتیجہ میں مکہ اور مدینہ کو بھی خطرہ لاحق تھا۔حضرت خلیفہ المسح الثانی نے اس وقت عالم اسلام کو بڑے واشگاف الفاظ میں بیدار کرتے ہوئے فرمایا: سوال فلسطین کا نہیں سوال مدینہ کا ہے، سوال یروشلم کا نہیں سوال خود مکہ مکرمہ کا ہے۔سوال زید اور بکر کا نہیں سوال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا ہے۔دشمن با وجود اپنی مخالفتوں کے اسلام کے مقابل پر اکٹھا ہو گیا ہے۔کیا مسلمان با وجود ہزاروں اتحاد کی وجوہات کے اس موقع پر اکٹھا نہیں ہو گا۔(الکفر ملتۃ واحدۃ انوار العلوم جلد ۱۹) لیکن آج جب کلمہ پر یہ نا پاک حملہ کیا گیا ہے تو میں عالم اسلام کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ آج نہ فلسطین کا سوال ہے نہ یروشلم کا سوال ہے اور نہ مکہ مکرمہ کا سوال ہے، آج اس خدائے واحد دیگانہ کی عزت اور جلال کا سوال ہے جس کے نام سے ان مٹی کے شہروں نے عظمت پائی تھی، جس کے عظیم نام سے اینٹ پتھر کے گھروندوں کو تقدس نصیب