ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 284 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 284

284 ہمارے لئے گنجائش ہی موجود نہیں۔آج بھی ہمارا یہی جواب ہے۔تو یہ جو نرم سی بات بنا کر پیش کرتے ہیں ان کو وہ نرم بات بھول گئی ہے جو چودہ سو سال پہلے مکہ میں کی گئی تھی۔آخر عالم بنتے ہیں تو یہ کیسے انکار کر سکتے ہیں کہ تاریخ اسلام میں ( خطبات طاہر جلد 5 صفحہ 419-420) یہ واقعہ پہلے گزر چکا ہے۔" کلمہ کی حفاظت اور عزت کی خاطر احمدیوں کی قربانیاں احمدی تولاَ إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کا ورد کرتے ہیں اور ور جان ہے یہ کلمہ اُن کا۔اس کلمہ کی خاطر جان و مال اور عزتوں کی قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔سالہا سال سے پاکستان کی گلیوں نے یہ گواہیاں دی ہیں کہ اس کلمہ کی حفاظت اور عزت کی خاطر احمدی اور کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتے۔جیلوں میں ٹھونسے گئے ، مارے گئے ،گلیوں میں گھسیٹے گئے ، ان کی عزتیں لوٹی گئیں ، ان کے اموال چھینے گئے ، ان کے گھروں کو جلایا گیا لیکن کلمہ کی حفاظت سے ایک قدم بھی یہ پیچھے نہیں ہے۔تو ان کے خلاف تم دعوی کرتے ہو کہ یہ غیر مسلم ہیں؟ تمہیں تو عقل نہیں ہے تم تو عقل سے کلیۂ عاری ہو چکے ہولیکن بنگلہ دیش کے سیاست دان پر مجھے توقع ہے کہ وہ بہتر دانشوری کے نمونے دکھائے گا۔انہیں عقل اور فہم عام دوسرے پاکستانی سیاستدانوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔میرا تجربہ ہے، میں بنگال میں بہت پھر چکا ہوں۔ان لوگوں میں عقل نسبتاً زیادہ ہے اور منطق کی بات کی جائے تو ضد نہیں کرتے اور سمجھ جاتے ہیں اس لئے وقت ہے کہ بڑی تیزی کے ساتھ ان کو سمجھایا جائے کہ عقل اور ہوش کے ناخن لو۔خوفناک سازش کا نہ صرف شکار نہ ہو اور نہ قوم کو شکار ہونے دو۔تمہاری نہ دنیار ہے گی نہ تمہارا دین رہے گا۔ایک لا إِلهَ إِلَّا اللہ کا مقابلہ کرنے کی کسی میں طاقت نہیں ہے۔گلی گلی سے احمدیوں کی روحیں قیامت کے دن تمہارے خلاف شہادت دیں گی لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ پڑھیں گی۔اس وقت کس منہ سے خدا کو جواب دو گے کہ ہم نے ان لوگوں پر ظلم کیا ، ان پر ستم کیا ، ان کی جانیں لیں اور ان کی عزتیں لوٹیں اور ان کو غیر مسلم قرار دے دیا۔اللہ تعالیٰ تمہیں عقل دے اور ہوش دے اور تم اس بدنصیب کہانی کو دہرانے والے نہ بنو جو پاکستان میں کچھ عرصہ پہلے دہرائی گئی تھی۔اس کی پاداش آج تک اسی طرح جاری وساری ہے۔وہ واقعہ تو تاریخ کا حصہ بن گیا ہے لیکن سزا ایک زندہ حقیقت کے طور پر قوم سے چمٹ بیٹھی ہے اور چھوڑنے کا نام نہیں لیتی۔" خطبات طاہر جلد 11 صفحہ 801-802) چالیس لاکھ احمد یوں کی لاشوں کو پاکستان کی گلیوں میں کتے گھسیٹتے پھریں تب بھی کلے کو آنچ نہیں آنے دیں گے اگر خدا نے کسی قوم کو شہادت کی سعادت عطا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو ہم اس کی ہر رضا پر راضی رہیں گے لیکن میں جماعت احمدیہ پاکستان کو یاد دلاتا ہوں کہ اگر یہ شہادت ان کے مقدر میں لکھی جاچکی ہے تو پہلے سے زیادہ عزم اور حو صلے کے ساتھ اس بات کا عہد کریں کہ جس طرح ان نوجوانوں نے اپنے عہد کو پورا کیا اور خدا کی خاطر اپنے پیارے بیوی اور بچوں سے منہ موڑا، موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو دیکھا اور اُسے خدا کے نام پر قبول