ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 283 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 283

283 کے فیصلہ کے ذریعہ آپ کو غیر مسلم قرار دے دیا ہے تو اسے قبول کرنے میں کیا حرج ہے اور اس کے خلاف ضد کرنا یہ تو ایک باغیانہ طریق ہے قوم کے خلاف۔جب قوم آپ کو غیر مسلم قرار دے چکی ہے تو آپ اس کو قبول کر لیں، اس میں کیا حرج ہے اور قبول کرنے کے نتیجہ میں ہم اور کچھ نہیں کہتے صرف یہ کہتے ہیں کہ اسلام کے تمام شعائر سے اپنا تعلق کاٹ لیں، اپنی مساجد کا رخ بدل لیں، قبلہ اور کرلیں، کلمہ سے کوئی تعلق ظاہر نہ کریں اپنا اور کوئی تعلق نہ رکھیں ، بس اتنی سی بات ہے اور معقول وجہ یہ ہے کہ ایک سیاسی اکثریت نے آپ کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے کہ آپ غیر مسلم ہیں، جب آپ غیر مسلم ہو گئے تو پھر اسلام کے جتنے بھی بنیادی عقائد ہیں ان سے آپ کا تعلق خود بخو دٹوٹ گیا۔جتنے بھی اسلام کے شعائر ہیں ان سے آپ خود بخود منقطع ہو گئے۔اتنی سی معمولی عقل کی بات بھی آپ کو سمجھ میں نہیں آرہی۔یہ ہے ان کا مشورہ جو بڑی بڑی شہ سرخیوں کے ساتھ پاکستان کی اخباروں میں شائع ہوا ہے ورنہ پھر آگے دور نہ ہے کہ جو ہم تم سے کر رہے ہیں وہ کرتے چلے جائیں گے۔اس مشورہ کے نتیجہ میں اور باتیں جو قابل غور ہیں وہ تو ہیں ہی لیکن خود مشورہ دینے والے نے اپنے اسلام کو بے نقاب کر دیا، اپنے اسلام کے تصور کا کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیا عملا۔اس کے بہت سے پہلو ہیں۔ایک تو تاریخی پس منظر ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ندوہ میں اہل عرب کے چوٹی کے سرداروں کا ایک اجتماع ہوا۔قریش سردار سارے جمع ہوئے اور بھاری اکثریت سے جس کے مقابل پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گنتی کے چند غلام باقی تھے۔حضرت علی کرم اللہ وجہ ، حضرت ابو بکر صدیق اور ایک دو حضرت خدیجہ اور کچھ دلی ہمدرد، یہ اقلیت تھی ان عرب سرداروں کے مقابل پر چند لوگ غلام، چند غریب لوگ ساتھی ، انہوں نے ایک اجتماعی فیصلہ دیا کہ ساری قوم کا یہ فیصلہ ہے کہ تم یہ کر سکتے ہو اور یہ نہیں کر سکتے اور وہ فیصلہ بنیادی طور پر یہی تھا کہ ہم تمہیں کلمہ لا إلهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ نہیں پڑھنے دیں گے۔اتنی سی بات ہے۔اس میں کونسا شدید مطالبہ ہے۔اتنا معمولی چھوٹا سا مطالبہ ہے کہ اس کلمہ سے اپنا تعلق کاٹ لو اور قوم تمہارے لئے سختیوں کی بجائے اپنے سارے نرم پہلو تمہاری خدمت میں پیش کر دے گی اور جتنے مفادات دنیا کے تمہارے ساتھ وابستہ ہو سکتے ہیں وہ سارے مفادات تمہیں مہیا کر دیئے جائیں گے۔یہ خلاصہ تھا اس پیغام کا جو حضرت ابو طالب کے ذریعہ آپ کو بھجوایا گیا اور ایک دفعہ نہیں چار مرتبہ مختلف شکلوں میں یہ اجتماعات ہوئے اور چار مرتبہ مختلف الفاظ میں یہی پیغام دہرایا گیا کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله بس یہی جھگڑا ہے صرف اس سے اپنا تعلق کاٹ لو تمہارا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔وہ جواب جو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا وہ تو ایک زندہ اور پائندہ جواب تھا۔وہ ایسا جواب نہیں تھا کہ جسے وقت کے لمحے کسی وقت بھی کاٹ سکیں اور ختم کر سکیں۔وہ امر تھا، گزرتا ہوا وقت اس پر کسی پہلو سے بھی اثر انداز نہیں ہوسکتا لازوال تھا وہ جواب اور لازوال ہے اور لازوال رہے گا۔اور وہ یہی تھا کہ تمہاری ساری طاقتیں اپنے سارے کر وفر کے ساتھ جو چاہیں کر گزریں اس پیارے کلمہ سے تم ہمارا تعلق نہیں تو ڑ سکتے۔اس کلمہ سے ایک ذرہ بھی انحراف کی