ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 281 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 281

281 رحمہ اللہ کیسے خاموش رہ سکتے تھے۔آپ نے فرمایا :۔"اگر ساری دنیا بھی کلمہ طیبہ کو مٹانے کی کوشش کرے گی تو لازماً کلمہ اس دنیا کو ہلاک کر دے گا۔آج کلمہ کی طاقت کا غیر توحیدی طاقتوں سے مقابلہ ہو گیا ہے۔آج قوم ننگی ہو کر اور کھل کر سامنے آگئی ہے کہ ان کے مدعا اور مقاصد کیا تھے؟ اسلام کی تاریخ کا یہ سب سے دردناک دور ہے کہ اسلام کے نام پر اسلام کے دشمنوں کی تاریخ دہرائی جارہی ہے۔ایک وہ دور تھا کلمہ طیبہ مثانے کا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوئی فرمایا اور کلمہ کی حفاظت کرنے والے مکہ کی گلیوں میں گھسیٹے گئے۔ان پر ایسے ایسے مظالم ہوئے کہ ان کا ذکر پڑھنے سے ہی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا وقت یاد کریں کہ کس طرح کلمہ کے جرم میں ان کو مکہ کی سنگلاخ زمینوں پر اس طرح گھسیٹا جاتا تھا جس طرح ایک مرے ہوئے کتے کو ٹانگوں میں رسی ڈال کر بیچے گھسیٹتے ہیں۔ان کو اور بعض اور غلاموں کو پتے ہوئے صحراؤں میں جب کہ درجہ حرارت ۴۰ درجہ پہنچ جایا کرتا تھا، تپتی ریت پر لٹا کر پھر گرم پتھر کی سلیں ان کی چھاتیوں پر رکھی جاتی تھیں اور کہا جاتا تھا کہ اب بھی تو بہ کرو گے کہ نہیں کلمہ طیبہ سے؟ اور راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اس حالت میں بے ہوش ہوا کرتے تھے کہ اسهدان لا اله الا اللہ کی آواز ان کی بلند ہورہی ہوتی تھی آخری وقت تک اور جب ہوش آتی تھی تو پہلا کلمہ خود بخود منہ سے نکلتا تھا اسدان لا اله الا الـــلـــه محمدرسول الله۔کیسا بد بختی کا زمانہ ہے کہ وہ دور جس میں دشمن اسلام نے کلمہ کو مٹانے کا فیصلہ کیا اور اس راہ میں انتہائی مظالم اختیار کئے ، وہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کا دور اور ان کا کردار آج کے مسلمانوں نے اپنا بنانا شروع کر دیا ہے اور سارے پاکستان کی مساجد میں یہ اعلان ہورہے ہیں کہ ہم احمدیوں کی مساجد سے ان کے درودیوار سے کلمہ مٹا کر چھوڑیں گے اور حکومت کے نمائندے، میرے پاس تصویر یں ہیں بے شمار ایسی پڑی ہوئی ، وہ سیڑھیوں پر چڑھ چڑھ کر ، دیواروں پر چڑھ چڑھ کے کلمہ پر سیاہی پھیر رہے ہیں۔کوئی حیا نہیں، کوئی خوف نہیں خدا کا، کچھ پتا نہیں کہ وہ اپنی کیا تصویر بنارہے ہیں۔ایک بات بہر حال آخری اور یقینی ہے کہ جماعت احمد یہ کلمہ کی حفاظت میں جان دے گی اور ہر گز کسی قیمت پر اس بات کو قبول نہیں کرے گی۔آمر ہو یا غیر آمر، ایک دنیا کی طاقت ہو یا ساری دنیا کی طاقتیں ہوں، ہرگز کوئی احمدی کسی آمر کی کوئی ایسی بات قبول نہیں کرے گا جو دین کے اصولوں پر حملہ آور ہورہی ہو اور کلمہ طیبہ تو دین کی جان ہے، اصول تو دوسری باتیں ہیں یہ تو وہ مرکزی حصہ ہے جس سے سارے اصول نکلتے ہیں۔وہ بیج کی جڑ ہے جس سے آگے جڑیں پھوٹتی ہیں۔اس لئے اس بات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی احمدی کلمہ طیبہ کو چھوڑ دے گا یا کلمہ طیبہ کو مٹانے دے گا ان ظالموں کے ہاتھوں۔اگر کوئی حکومت بد کردار خود مٹاتی ہے تو دیکھیں اس حکومت کے ساتھ پھر خدا کیا سلوک کرتا ہے لیکن حکومت کے علاوہ جو لوگ ہیں خواہ احمدی کتنے ہی اس راہ میں مارے جائیں ان کو نہیں ہاتھ ڈالنے دیں گے۔" خطبات طاہر جلد 3 صفحہ 702-704)