ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 280
280 میں دیتا ہے اس کو پھر یہ لوگ عالمی مواصلاتی ذرائع سے ساری دنیا کو دکھاتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں طرف کی بات ہے صرف طاقتور اور کمزور کا جھگڑا ہے ورنہ تو کر دار ایک ہے ، نظریات ایک ہیں ایک دوسرے کے معاملات میں رد عمل ایک جیسے ہی ہیں ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں صرف یہ دیکھ لوکوئی طاقت ور ہے اور اس کا زیادہ داؤ چل گیا کچھ کمزور ہیں ان کا کم داؤ چلا ہے۔پاکستان میں کم مندر تھے اس لئے کم جلائے گئے ، کم ہندو تھے اس لئے کم زندہ آگ میں چھینکے گئے۔ہندوستان میں چونکہ یہ تعداد بہت زیادہ ہے اس لئے زیادہ تعداد میں سب کچھ ظاہر ہوا لیکن افسوس، کچھ پاکستان کے اخبارات کو اس شدت کے ساتھ اور اس جلی قلم کے ساتھ ان خوفناک مظالم کی جو پاکستان میں بھی ہندوؤں پر توڑے گئے مذمت کرنے کی ان کو توفیق نہیں ملی۔بڑی شدت سے رد عمل ہونا چاہئے تھا۔مسلمان رہنماؤں کو اُٹھ کھڑے ہونا چاہئے تھا اور کہنا چاہئے تھا کہ تم نے عالم اسلام کے وقار کوٹھیس پہنچائی ہے تم نے قرآن کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے ، ہم اپنے ملک میں ایسا نہیں ہونے دیں گے اگر ایسا ہوتا تو آج دنیا میں اسلام کا تاثر بالکل اور رنگ کا ہوتا اور اسلام دشمن طاقتوں کا تاثر بالکل اور رنگ کا ہوتا لیکن اب بچے ہو کر جھوٹوں کی طرح اپنے کردار کو گندہ کر دیا ہے اور یہ سب نحوست دراصل اس بات کی ہے کہ راہنماؤں میں نہ عقل کی روشنی ہے اور نہ تقویٰ کی روشنی ہے اور وہ اپنی قوم سے خیانت کر رہے ہیں ،غلط مشورے دیتے ہیں، غلط راہنمائی کرتے ہیں اور جب کوئی مسئلہ ایسا پیدا ہوتا ہے کہ جب قوم کو صحیح راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے تو غلط رستے پر ڈال دیتے ہیں مسلمان پے در پے ٹھو کر کھا رہا ہے۔اگر یہ بات غلط ہواور وہ سچے مشورے دے رہے ہوں اور صحیح سمت پر قوم کو ڈال رہے ہوں تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تائید آسمان سے ظاہر نہ ہو۔پس جب تم غیروں کی طرف جاؤ گے تو خدا کو کیا ضرورت ہے کہ تمہاری تائید میں اعجاز دکھائے۔آسمان سے معجزے نازل ہوں۔یہ تو ان لوگوں کے لئے ہوتے ہیں جو اپنے کردار میں اعجاز دکھایا کرتے ہیں خارق عادت تعلق اللہ سے باندھا کرتے ہیں۔قرآن کریم نے دیکھیں کیسا پیارا اور ہمیشہ کی سچائی کا یہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ اِن اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَابِقَومٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِم (الرعد: 12) که سنو! خدا کبھی کسی قوم کی حالت کو تبدیل نہیں کیا کرتا جب تک وہ قوم پہلے اپنی حالت کو تبدیل نہ کر لے۔" ( خطبات طاہر جلد 11 صفحہ 881-889) جماعت احمد یہ کلمہ کی حفاظت میں جان دے دے گی 1984ء سے تاریخ احمدیت میں ایک تکلیف دہ دور کا آغاز ہوا جو پہلے سے زیادہ بھیانک صورت میں آج بھی جاری ہے اور وہ پاکستان میں ملاؤں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین ہے۔احمد یہ بیوت الذکر کی پیشانیوں سے کلمے مٹائے گئے۔ہتھوڑے اور چھینوں سے کلمے کی پختہ تختیاں توڑی گئیں اور کئی دفعہ یہ کلمہ کے پاک الفاظ گندی نالیوں میں گرے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نشانی کلمہ طیبہ کی بے حرمتی پر جماعت احمدیہ کے امام حضرت خلیفہ امسیح الرابع