ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 279
279 عرب مشرکین کے پاس تھی لیکن دیکھیں خدا کی تقدیر نے نتائج کیا ظاہر کئے ہیں۔اس ایک کوسو کے برابر طاقتور کر دیا اور ان سو کی طاقت چھین کر ایک کے برابر بھی نہ رہنے دی۔یہ نصرت الہی کا ہاتھ ہے۔یہ اگر اسلام کی تائید میں عرب میں اُٹھ سکتا تھا اور چل سکتا تھا تو کیوں ہندوستان میں نہیں اُٹھ سکتا اور نہیں چل سکتا۔کون ہے جو خدا کے ہاتھ کو روک سکے؟ لیکن اپنی ادائیں ان لوگوں والی بنائیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھی ہیں، ویسے دل پیدا کریں، ویسے حوصلے پیدا کریں، ویسے دماغ پیدا کریں پھر دیکھیں کہ خدا کی تائید آپ کے لئے کیسے کیسے کرشمے دکھاتی ہے۔پس ظلم کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے ایک بہت اچھا موقع تھا جو ان کے بدنصیب را ہنماؤں نے ہاتھ سے جانے دیا اور اس ابتلاء سے فائدہ اُٹھانے کی بجائے اُمت کو مزید نقصان میں جھونک دیا ہے۔۔چنانچہ مبصرین نے اس وقت تک جو بیان کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اجودھیا کی مسجد کے سلسلہ میں مرکزی حکومت نے آنکھیں بند کیں اور یہ واقعہ ہونے دیا اور یوپی کی حکومت پوری طرح اس میں ملوث تھی لیکن مرکزی حکومت نے اس کی مذمت ضرور کی ہے اور واقعہ ہونے کے معا بعد اس حکومت کو برطرف کر دیا۔یہ بھی کوئی مذہبی کاروائی نہیں تھی، کسی نیکی پر مبنی نہیں تھی مگر کم سے کم عقل پر مبنی ضرور تھی انہوں نے ایک قانونی سہارا لیا کہ جس صوبے میں ہمارا براہ راست عمل دخل نہیں ہے اس میں ہونے والے واقعات سے متعلق ہم متنبہ کرتے رہے ہیں اس صوبے کو اور بتاتے رہے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے اور جب ہوا تو اسی وقت ہم نے اس حکومت کو معطل کر دیا اور اسی وقت دوسری کارروائی شروع کردی یعنی دنیا کو دکھانے کیلئے ایک معقول طرز عمل خواہ وہ گہرا تھا یا سطحی تھا ایسا ضرور پیش کیا گیا ہے جس سے دنیا کی جو رائے عامہ ہے اس پر اچھا اثر پڑ سکتا ہے۔گود نیا کسی حد تک یہ کہ سکتی ہے کہ آپ نے عمداً ایسا ہونے دیا۔آپ اس شرارت میں دراصل شریک ہیں ، اس صوبے کی حکومت سے سیاسی انتقام لینا چاہتے تھے۔اس سیاسی انتقام لینے کی خاطر آپ نے خود اس واقعہ سے آنکھیں بند رکھیں، پتا تھا کہ ہو گا لیکن جان کر ہونے دیا، یہ بھی کہا جاسکتا ہے لیکن کچھ کوشش تو ضرور کی ہے۔وہاں کے اخبارات نے جو تبصرے کئے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ ساری قوم میں ندامت کا ایک احساس بھی موجود ہے، ایک حیا بھی ہے جس کا ذکر کیا جارہا ہے اور بعض اخبارات نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ ایسے داغ اب ہمارے کردار پر لگ گئے ہیں۔وہ خون جو اجودھیا میں اور باہر بہایا گیا اس خون نے ہمارے کردار پر ایسے دھبے لگا دیئے ہیں جو کبھی دھل نہیں سکتے اور وہ عمارتیں جو منہدم کی گئی ہیں ان عمارتوں نے منہدم ہو کر ہمارے قومی کردار کی تعمیر کو منہدم کر دیا ہے اور اب مشکل سے یہ تعمیر نو ہو گی۔بڑے بڑے زبر دست اور صحیح اور سچے تبصرے ان اخبارات میں آرہے ہیں اور سوائے چند ایک اخبارات کے جو انتہا پرستوں کے ہاتھ میں ہیں اکثر ہندوستانی اخبارات نے ان واقعات کے خلاف بہت سخت تبصرے کئے ہیں لیکن افسوس ہے کہ ایسے مواقع پر مسلمان رہنماؤں کو عقل نہیں آتی اور کھلے بندوں مساجد سے اعلان کئے جارہے ہیں کہ اُٹھو جہاد کا وقت آگیا ہے، برباد کر دومٹا دو اور ان پر چڑھ دوڑو اور جوابی کارروائی کے لئے تیار ہو جاؤ۔دہلی کی مسجد میں جو امام لیکچر دیتا ہے یا دوسری مسجد وں