ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 278
278 خاطر یعنی خدا کے گھر کے تقدس کی خاطر وہ کوئی اقدام کرتا ہے تو ایسی جوابی کارروائی تو نہیں ہونی چاہئے کہ اور بھی کثرت سے خدا کے گھر منہدم کروائے جائیں۔پس یہ ایک جاہلانہ فعل ہے۔اگر عالم اسلام یہ رد عمل دکھا تا کہ ان کو کہتا کہ اگر تم انسان نہیں ہو تو ہم تو انسان ہیں۔تمہاری تربیت بتوں نے کی ہے (اگر کوئی بت ہیں ) لیکن ہماری خدائے واحد لاشریک نے تربیت کی ہے، ہماری محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت کی ہے، ہم ان بدبختیوں میں مبتلا نہیں ہو سکتے جن میں تم ہو رہے ہو۔اگر خدا ہمیں طاقت دے تو ہم ظالم سے اس کے ظلم کا بدلہ لے سکتے ہیں لیکن جاہلانہ طور پر جرم کوئی اور کرے اور اس کی سزا کسی اور کو دی جائے اس کی ہمارا مذہب اجازت نہیں دیتا۔اگر یہ اقدام کرتے اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرتے ، خواہ وہ کسی قسم کی عبادتگاہیں ہوں تو یقینا اللہ کی نصرت ان کی تائید میں ظاہر ہوتی ، آج جو مظالم ہوئے ہیں ان کا عشر عشیر بھی ظاہر نہ ہوتا۔امر واقعہ یہ ہے کہ جو ہندوانتہا پسند ہے اس نے عمداً اس نیت سے یہ شرارت کی تھی کہ سارے ملک میں اس طرح آگ لگ جائے ، مسلمانوں کا رد عمل ہو پھر ہم ہندوؤں کو اور بھڑ کا ئیں اور پھر وہ حالات پیدا کر دیں کہ جس طرح ہمارا دعوای ہے ہندوستان صرف ہندؤوں کے لئے ہے، مسلمانوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔یہ نعرہ لے کر ہم اس آگ کو پھیلاتے رہیں اور بھڑکاتے رہیں اور مسلمان مظلوموں کو اس میں جھونکتے رہیں۔یہ ان کا کھلا کھلا دعویٰ تھا آج بھی ہے اور خدا کی تقدیر جب تک اس کو سزا نہیں دیتی کل بھی یہی رہے گا۔اس دعوئی کی تائید میں باہر بعض ایسی ظالمانہ کارروائیاں کی گئی ہیں جو انتقامی کارروائیاں نہیں بلکہ ہندوستان کے نہتے مظلوم مسلمانوں پر مزید ظلم کرنے کے مترادف ہیں۔پس ان کارروائیوں میں نہ ایمان کا نور ہے، نہ عقل کی روشنی ہے محض جاہلانہ کاروائیاں ہیں جنہوں نے ویسے بھی اسلام اور اسلام کی مخالفانہ طاقتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مبہم کر کے دکھا دیا ہے۔اب خبروں والے کہتے ہیں کہ وہاں بمبئی میں اتنے بچے جلائے گئے اور کوئٹہ میں اتنے بچے جلائے گئے ، ہندوستان میں اتنی مساجد منہدم کی گئیں اور پاکستان میں اتنے مندر منہدم کئے گئے۔تعداد کا فرق رہا لیکن جرم کی نوعیت میں تو کوئی فرق نہیں، غیر انسانی حرکتوں میں تو کوئی فرق نہیں رہا۔پس وہ لوگ جنہوں نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو غیر اللہ کے دین سے اس طرح متشابہ کر کے دکھایا ہے انہوں نے بڑا بھاری ظلم کیا ہے۔اگر وہ بچے استغفار سے کام نہ لیں اور تو بہ نہ کریں تو خدا کی تائید تو در کنار ان کو یہ خوف دامن گیر ہونا چاہئے کہ خدا کی مزید پکڑ کے نیچے نہ آجائیں۔اللہ تعالیٰ اپنے پاک بندوں کی تائید کرتا ہے اور ضرور کرتا ہے۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب کے مشرکین کے مقابل پر عددی لحاظ سے اس سے کم حیثیت تھی جتنی آج ہندوستان کے مسلمانوں کو وہاں کے مشرکین کے مقابل پر حیثیت ہے۔نسبتی لحاظ سے آپ دیکھیں گفتی کے جتنے چند مسلمان مدینہ میں تھے یا چند بستیوں میں اکا دکا موجود تھے ان کے مقابل پر سارا مشرک عرب کتنی بھاری طاقت تھی۔یہ اتنی بھاری طاقت تھی کہ حقیقت میں اس کی ایک اور سو کی جتنی نسبت نہیں تھی یعنی اگر مسلمان کی ایک طاقت تھی تو اس کے مقابل پر سو یا اس سے زیادہ کی طاقت