ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 277
277 یہی مضمون ہے جو دوسرے بیت المقدس کے متعلق بھی اسی طرح صادق آتا ہے۔وہ بیت المقدس جو فلسطین میں واقع ہے اور جو خانہ کعبہ کے بعد دوسرا ایسا مقام ہے جو عبادت کرنے والوں کی نگاہ میں سب سے زیادہ عزیز ہے۔اس کے متعلق بھی قرآن کریم کی یہی پیشگوئی ہے کہ ہم نے یہ لکھ چھوڑا ہے کہ ہم یہ گھر اپنے عبادت کرنے والوں کو واپس کریں گے۔جب تک عباد الله المخلصین پیدا نہیں ہوں گے اس وقت تک خدا کو کچھ پرواہ بھی نہیں ہے کہ یہ کن لوگوں کے ہاتھوں میں رہتا ہے۔تو دیکھئے ایک ہی خدا ہے، اس کا ایک ہی کلام یعنی قرآن کریم ہے، اس کی مختلف آیات، مختلف مواقع پر نازل ہوتی ہیں اور بظاہر مختلف مضامین سے تعلق رکھتی ہیں لیکن بنیادی طور پر بظاہر کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں اور ایک ہی اصول پر مبنی ہیں اور ایک ہی اصول کے متعلق بنی نوع انسان کو پیغام دے رہی ہیں، مختلف جہتوں سے وہ پیغام آرہے ہیں مگر پیغام فی ذاتہ ایک ہی ہیں، عبادت کرنے والے پیدا ہوں گے تو ممکن نہیں ہے کہ غیر اللہ کا مساجد پر قبضہ رہے ، عبادتگاہوں پر قبضہ رہے۔اگر کچی عبادت کرنے والے نہیں ہونگے یا خدا سے تعلق بگڑ چکے ہوں گے تو پھر خدا کی غیرت کوئی جوش نہیں دکھائے گی۔اس کی طرف عالم اسلام کو توجہ کرنی چاہئے اور فکر کرنی چاہئے ، اپنے رد عمل کا جائزہ لینا چاہئے۔معلوم کرنا چاہئے کہ کس حد تک انہوں نے خدا کی خاطر ایسا کیا، کس حد تک قومی دشمنیوں اور دیرینہ عداوتوں کے نتیجہ میں ایسا کیا گیا۔اگر خدا کے گھر کی محبت کے نتیجہ میں کوئی رد عمل دکھایا جائے اور ردعمل دکھانے والا مخلص ہواور واقعہ خدا کی محبت میں سرشار ہو تو خدا کی تقدیر اس کی حمایت میں ضرور کھڑی ہوگی ، ناممکن ہے کہ اسے پشت پناہی کے بغیر خالی چھوڑ دیا جائے۔اس وقت جو نظارہ دکھائی دے رہا ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے مسلمانوں کا کوئی یار ومددگار نہیں رہا حالانکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ مسلمان اور غیر مسلم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ غیروں کا کوئی مولیٰ نہیں ہے لیکن مومنین کا مولیٰ ہے۔جو خدا کے ہیں ان کا ایک والی ، ان کا ایک مددگار، ان کا ایک نصیر موجود ہے۔بے سہارا لوگوں کے حالات اور ہوا کرتے ہیں۔سہارے والوں کے اور ہوا کرتے ہیں اور جن کی پشت پر خدا کھڑا ہو کیسے ممکن ہے کہ ان کے حالات بے سہاروں والے ہو جا ئیں۔پس بنیادی فکر کا پیغام یہ ہے کہ کیا ہماری پشت پر خدا نہیں رہا یعنی عالم اسلام کو اس بات پر غور کرنا چاہئے ، اگر نہیں رہا، تو کیوں نہیں رہا وہ تو بے وفائی کرنے والا خدا نہیں ہے۔یقیناً ہم نے بے وفائی کی ہے۔۔۔۔پھر عالم اسلام تو عبادت گاہوں کے تقدس کی حفاظت کرتا ہے ظلم کی حد ہے کہ ایک جگہ اگر بعض مساجد جلائی گئیں تو دوسری جگہ ان کی عبادتگاہیں مسمار کر دی گئیں ، اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن پر ایک یا دو مسجدیں منہدم ہوئی تھیں ہندوستان میں جب مسلمانوں نے مندر جلانے کا رد عمل دکھایا تو بیسیوں اور مساجد اس کے نتیجہ میں منہدم کر دی گئیں۔یہ ایک موٹی عقل سے تعلق رکھنے والی بات ہے۔عقل کا تقاضا ہے کہ انسان صورت حال کا جائزہ لے کر ایسا انتقام نہ لے جس سے اس کے مظلوم بھائی اور مصیبتوں میں مبتلا ہو جا ئیں۔جس گھر کے تقدس کی