ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 7
7 ایک دردمند دل ان دلفگار حالات کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کو عین جوانی کے عالم میں بذریعہ خواب دکھلا دیا تھا۔جب رویا میں آپ کو سرتاج مدینہ نور دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ انور کی زیارت کا شرف نصیب ہوا۔اس زیارت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو کچھ ایسا مستانہ بنا دیا کہ جب تک آپ زندہ رہے عشق رسول میں فنا ر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آقا و مولیٰ کی اس مبارک زیارت کا نہایت دلکش اور وجد آفرین نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں۔اوائل ایام جوانی میں ایک رات میں نے ( رویا میں) دیکھا کہ میں ایک عالی شان مکان میں ہوں جو نہایت پاک اور صاف ہے اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور چرچا ہو رہا ہے۔میں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ حضور کہاں تشریف فرما ہیں۔انہوں نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا۔چنانچہ میں دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر اس کے اندر چلا گیا اور جب میں حضور کی خدمت میں پہنچا تو حضور بہت خوش ہوئے اور آپ نے مجھے بہتر طور پر میرے سلام کا جواب دیا۔آپ کا حسن و جمال اور ملاحت اور آپ کی پُر شفقت و پر محبت نگاہ مجھے اب تک یاد ہے اور وہ مجھے کبھی بھول نہیں سکتی۔آپ کی محبت نے مجھے فریفتہ کر لیا اور آپ کے حسین و جمیل چہرہ نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا۔اس وقت آپ نے مجھے فرمایا۔اے احمد ! تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا چیز ہے؟ جب میں نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ میرے ہاتھ میں ایک کتاب ہے اور وہ مجھے اپنی ہی ایک تصنیف معلوم ہوئی۔میں نے عرض کیا۔حضور ! یہ میری ایک تصنیف ہے۔" ( ترجمه عربی عبارت آئینہ کمالات اسلام از روحانی خزائن جلد 5 صفحه 548) " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے۔خاکسار نے عرض کیا کہ اس کتاب کا میں نے قطبی نام رکھا ہے۔۔۔۔غرض آنحضرت نے وہ کتاب مجھ سے لے لی اور جب وہ کتاب حضرت مقدس نبوی کے ہاتھ میں آئی تو آنجناب کا ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوش رنگ اور خوبصورت میوہ بن گئی کہ جو امرود سے مشابہ تھا مگر بقدر تربوز تھا۔آنحضرت نے جب اس میوہ کو تقسیم کرنے کے لئے قاش قاش کرنا چاہا تو اس قدر اس میں سے شہر نکلا کہ آنجناب کا ہاتھ مبارک مرفق تک شہد سے بھر گیا۔تب ایک مُردہ جو دروازہ سے باہر پڑا تھا، آنحضرت کے معجزہ سے زندہ ہو کر اس عاجز کے پیچھے آکھڑا ہوا اور یہ عاجز آنحضرت کے سامنے کھڑا تھا جیسے ایک مستغیث حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور آنحضرت بڑے جاہ و جلال اور حاکمانہ شان سے ایک زبر دست پہلوان کی طرح کرسی پر جلوس فرما رہے تھے۔پھر خلاصہ کلام یہ کہ ایک قاش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اس غرض سے دی کہ تا میں اس شخص کو دوں کہ جو نئے سرے سے زندہ ہوا اور باقی تمام قاشیں میرے دامن