ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 276
276 نبی و بیٹے نے مل کر کی تھی۔وہ تو حید کا مرکز تھا اور اس غرض سے قائم کیا گیا کہ تمام دنیا کو توحید کا پیغام پہنچائے لیکن آپ جانتے ہیں کہ کتنے سو سال تک وہ شرک کی آماجگاہ بنا رہا، کتنے بت تھے جو اس میں رکھے گئے۔بیان کیا جاتا ہے کہ ہر دن کے لئے ایک الگ بُت وہاں نصب کیا گیا تھا یعنی سال میں جتنے دن ہیں اتنے ہی انواع واقسام کے بت وہاں گاڑ دیئے گئے تھے اور توحید کا مرکز شرک کا سب سے بڑا مرکز بنا دیا گیا تھا اور اس بات پر سینکڑوں سال گزر گئے اور بظاہر خدا کی غیرت جوش میں نہیں آئی اور بظاہر کوئی ایسی چیز دکھائی نہیں دیتی جس کے نتیجہ میں ہم سمجھتے ہوں کہ خدا تعالیٰ نے دوبارہ خدائے واحد ویگانہ کی عبادت کے اس گھر کو عبادت کرنے والوں کے سپر د کر دیا ہو اور بتوں کو باہر نکال پھینکا ہو۔آگے بڑھتے ہیں تو حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انقلاب آفریں دور آتا ہے جو قرآن کی اصطلاح میں ساعۃ تھی ، ایک قیامت تھی جو بر پا ہو گئی۔صدیوں کے مُردے زندہ کئے گئے ، بہت تھے جو موت کے چنگل میں تھے ان کو موت کے چنگل سے رہائی بخشی گئی ایک عظیم روحانی انقلاب بر پا ہوا۔جب موحد پیدا ہوئے تو باوجود اس کے کہ مشرکین کو غیر معمولی طاقت حاصل تھی اور غیر معمولی غلبہ نصیب تھا ان کی طاقت اور غلبوں کے جال توڑ دیئے گئے ، ان کا کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا گیا اور اس گھر کو جو خدا کی وحدت کا ، خدا کی توحید کا گھر تھا توحید کا عالمی نشان تھا خدا کی عبادت کی خاطر قائم کیا گیا تھا، ان بندوں کے سپر د کیا گیا جو موحد بندے تھے ، جو تو حید کا حق ادا کرنا جانتے تھے، جو عبادت کی خاطر پیدا کئے گئے تھے اور عبادت کی خاطر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کی پرورش فرمائی ، خودان کو تربیت دی۔پس جب وہ موحدین دنیا میں آگئے جو اس گھر کے لائق تھے تو اس گھر کو غیر اللہ سے آزاد کرادیا گیا۔اس میں بہت گہر ا سبق ہے۔سبق اس میں یہ ہے کہ ظاہری چیزوں کا ایک مرتبہ اور مقام اس لئے بنتا ہے کہ کچھ نیک لوگ ان سے وابستہ ہوتے ہیں، کچھ پاک بندے ان سے وابستہ ہوتے ہیں تو وہ جگہیں مقدس کہلاتی ہیں ، کچھ بد اور گندے لوگ ان سے وابستہ ہوتے ہیں تو وہ چیزیں پلید کہلاتی ہیں۔تو ظاہری اینٹ پتھر اور مقام میں کوئی حقیقت نہ کوئی تقدس ہے، نہ کوئی اس میں ذلت ہے نہ کوئی تذلیل ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ پاکیزگی اور خبائث یہ دو چیزیں انسانوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔انہی کے دلوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں جب تک پاک دل پیدا نہ ہوں، ان ظاہری مقامات کا تقدس ان کو لوٹایا نہیں جاتا اور اس عرصے میں ان مقامات پر جو کچھ بھی ہو خدا غیور ہے اور مستغنی ہے۔غیور اور مستغنی دوصفات مل کر جو جلوہ دکھاتی ہیں اس سے پتا چلتا ہے کہ خدا ان باتوں کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتا۔وہ توحید کی غیرت رکھتا ہے لیکن تو حید کی غیرت رکھنے والے جب تک دنیا میں پیدا نہ ہوں اس وقت تک مقام تو حیدان کی طرف واپس نہیں لوٹایا جاتا۔پس خدا صبر کرنے والا بھی ہے، خدا نے اپنے سب سے مقدس گھر کو کتنا عرصہ شیطان کے ہاتھ میں رسوا ہوتے ہوئے دیکھا لیکن کوئی پرواہ نہیں کی لیکن جب محمد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی پیدا ہوئے تو کس شان کے ساتھ غیر اللہ کو اٹھا کر باہر پھینک دیا اور شیطان اور اس کے ساتھیوں کا کچھ بھی وہاں نہیں چھوڑا۔