ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 275
275 عرب کی اعلیٰ اخلاقی روایات میں سے ایک یہ ہے کہ مہمان کو جو تمہارا گھر کا پانی پی چکا ہو یا تمہارے گھر کا کھانا چکھ چکا ہو اس کو قتل نہیں کرنا چاہئے خواہ اس نے کیسا ہی بھیانک جرم کیا ہو اور اس کا جرم اتنا بھیا نک تھا یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار کی تو ہین کہ صلاح الدین جیسا عاشق رسول کسی قیمت پر اس کو معاف نہیں کر سکتا تھا۔پس اس کے نزدیک یہ بداخلاقی تھی کہ یہ اس کے میز سے پانی پی لیتا اور پھر وہ اس کوقتل کرتا نہ کہ یہ بداخلاقی کہ مرنے سے پہلے ایک دو سیکنڈ اور اس کو پیاس میں تڑپنے رہنے دیتا۔پس صلاح الدین ایک بہت بڑی عظیم شخصیت تھی جو اسلامی اخلاق کا ایک عظیم الشان مظاہرہ تھا۔ایسا حیرت انگیز مظاہرہ تھا کہ بعض مغربی مؤرخین نے اس کو عمر بن عبد العزیز ثانی کہنا شروع کر دیا اور وہ کہتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز میں جو صلاحیتیں جو روحانیت جو اعلیٰ اخلاق موجود تھے وہ سینکڑوں سال کے بعد صلاح الدین کی صورت میں عرب دنیا میں دوبارہ ظاہر ہوئے۔پس صلاح الدین محض جذبات سے نہیں بنا کرتے۔صلاح الدین نام بہت سی صلاحیتوں کا تقاضا کرتا ہے۔پس احمدی بھی شاید یہ پروگرام دیکھ کر جذباتی طور پر ہیجان پکڑ چکے ہوں ، وہ کہ رہے ہوں کہ دیکھو جی ،ادھر دعا کروائی ادھر صلاح الدین عطا ہو گیا۔یہ بچگانہ باتیں ہیں۔آپ کی سوچ پختہ ہونی چاہئے کیونکہ آپ تمام دنیا کی را ہنمائی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔میں آپ کو آپ کا یہ مقام یاد دلاتا ہوں آپ کسی ایک قوم اور کسی ایک مذہب کی راہنمائی کے لئے نہیں بلکہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی سے آپ نے سیادت کی صلاحیتیں حاصل کی ہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کی سیادت کے لئے پیدا فرمائے گئے اور تمام دنیا کو صحیح مشورے دینے کیلئے پیدا کئے گئے تھے۔ایسی پختگی انسانی عقل میں کبھی واقع نہیں ہوئی جیسی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو عقل کی پختگی عطا فرمائی گئی تھی۔آپ کا دل بھی کامل تھا، آپ کی عقل بھی کامل تھی اور دل کے جذبات کو عقل میں ناجائز دخل دینے کی اجازت نہیں تھی۔" بابری مسجد کے شہید کرنے پر حضرت خلیفہ امسیح الرابع کا شدید ردعمل خطبات طاہر جلد 10 صفحہ 42-44 حضور نے 11 دسمبر 1992ء کے خطبہ میں اس اندوہناک واقعہ پر تشویش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔"جہاں تک بابری مسجد کے منہدم کرنے کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا کے گھر کو منہدم کر کے شرک کی آماجگاہ بنا دینا ایک بہت بڑا ظلم ہے لیکن خدا کی تقدیر بعض دفعہ اس ظلم کو اس لئے ہونے دیتی ہے اور برداشت کرتی ہے کہ اس دور کے لوگ اس بات کے اہل نہیں کہ خدا کی تقدیر ان کے حق میں اُٹھ کھڑی ہو اور ان کے حق میں غیر معمولی کرشمے دکھائے ، خدا کی عبادت کا سب سے معزز گھر وہ ہے جس کو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے از سر نو اپنے ہاتھوں سے کھڑا کیا اور دوبارہ اس کو ایک عبادت گاہ کی صورت میں اپنی محنت سے از سر نو مکمل کیا یعنی تھا تو پہلے ہی لیکن منہدم ہو چکا تھا، گر گیا تھا تعمیر نو چاہتا تھا۔پس وہ تعمیر نو خدا کے ایک برگزیدہ نبی اور اس کے ایک برگزیدہ