ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 274 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 274

274 ہیں وہ کھل کر یہ کہہ رہے ہیں کہ بھئی ہم حملے میں تو شامل نہیں ہوں گے ہم تو صرف مقامات مقدسہ کی حفاظت کی خاطر کے اور مدینے میں جا کے بیٹھیں گے۔چنانچہ پاکستان نے بھی ایسا ہی جاہلانہ سا ایک اعلان کیا ہے یعنی مکے اور مدینے تک جو فوج پہنچ جائے گی اور تمام عالمی طاقتوں کو ملیا میٹ کرتے ہوئے پہنچے گی اس فوج سے بچانے کے لئے تم باقی رہ جاؤ گے۔کیسا بچگانہ خیال ہے۔دراصل ان کو یہ بتایا گیا ہے کہ تمہیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔تم آؤ امن کے ساتھ ہماری گود میں بیٹھو۔ہماری حفاظت میں رہو۔ہم صرف تمہارا نام چاہتے ہیں اور تمہاری شرکت کا نام چاہتے ہیں۔اس لئے تم شریک بن جاؤ اور یہی ہمارے لئے کافی ہے۔پس یہ ایک بہت بڑا خوفناک عالمی منصوبہ ہے اور اس منصوبے کو دنیا کے سامنے حسین طریق پر دھو کے کے ساتھ پیش کرنے کے یہ سارے ذرائع ہیں جو اختیار کئے جارہے ہیں۔" (خطبات طاہر جلد 10 صفحہ 26-30) آنحضور کے مزار مبارک کو مسمار کرنے کی سازش پر حضور کا تبصرہ اگلے خطبہ جمعہ 18 جنوری 1991ء کو حضور نے تاریخ اسلام کا ایک واقعہ بیان کر کے اس جرنیل کی تعریف فرمائی جس نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار کو تو ہین سے بچایا تھا۔آپ فرماتے ہیں:۔" محقین۔۔۔میں سے بعض نے یہ اعتراف کیا کہ صلاح الدین کے متعلق ہم نے ہر طرح سے کھوج لگایا کہ کوئی ایک بات اس کے متعلق ایسی بیان کر سکیں کہ جس نے بنیادی طور پر انسانیت کی ناقدری کی ہو، انسانی قدروں کو ٹھکرایا ہو ظلم اور سفا کی سے کام لیا ہو، بداخلاقی سے کام لیا ہو۔مگرایسی کوئی مثال اس کی زندگی میں دکھائی نہیں دی۔ایک ہی مثال ان کے سامنے آئی اور یہی مصنف لکھتا ہے کہ اس مثال میں بھی جس کو مغرب نے اچھالا ، دراصل کوئی حقیقت نہیں ہے۔وہ مثال یہ تھی کہ وہ یورپین شہزادہ جو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار کو اکھیڑنے کے لئے اس نیت کے ساتھ مدینے کی طرف روانہ ہوا تھا اور بہت قریب پہنچ چکا تھا اور اس کے ارادے بہت بد تھے۔اس کو صلاح الدین نے بالآخر پکڑ کر اس کی مہم کو نا کام اور نا مراد کیا اور جب وہ شہزادہ صلاح الدین کے سامنے پیش ہوا ہے تو اس وقت اس کا پیاس سے بُرا حال تھا، ایک شربت کا گلاس وہاں پڑا ہوا تھا اس نے وہ گلاس اٹھایا اور پینے لگا تھا کہ صلاح الدین نے تلوار کی ایک ضرب سے وہ گلاس توڑ دیا کیونکہ صلاح الدین نے زیادہ حکمت عملی کے ساتھ ایک زیادہ طاقتور فوج کو شکست دی تھی اور ان کو صحراء میں آگے پیچھے کر کے ایسے اقدام پر مجبور کر دیا جس کے نتیجے میں وہ پانی سے محروم رہ گئے اور صلاح الدین کی یہ جنگ تلوار کی طاقت سے نہیں بلکہ اعلیٰ حکمت عملی کے نتیجے میں جیتی گئی تھی۔پس وہ پیاس سے تڑپتا ہوا وہاں پہنچا اور اس وقت اس شربت کے گلاس سے اس کو محروم کر دیا گیا۔یہ محققین نے ایک داغ نکالا کہ یہ داغ صلاح الدین کے چہرے پر ہے اس کے سوا ہم کچھ تلاش نہیں کر سکے۔یہ مؤرخ جس کی کتاب میں نے ایک لمبا عرصہ ہوا پڑھی تھی، مجھے نام بھی یاد نہیں لمبا عرصہ پہلے پڑھی گئی تھی ، وہ یہ لکھتا ہے کہ جو اعتراض کرنے والے ہیں وہ عرب مزاج کو نہیں سمجھتے اور عرب کی اعلیٰ اخلاقی روایات کو نہیں سمجھتے۔