ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 271
271 باتیں جنہیں بعض لوگ چھوٹی سمجھتے ہیں ایک بہت ہی گہرے مرکزی خیال سے پیدا ہوتی ہیں اور یہ خیال بہت اہم ہے۔وہ صرف نماز پر ہی نہیں زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی ہے۔خدا کی حضوری کے تصور کے بغیر کوئی مذہبی قوم زندہ نہیں رہ سکتی ، لوگوں کو زندگی نہیں بخش سکتی۔" خطبات طاہر جلد 11 صفحہ 747-748) خانہ کعبہ اور دیگر مقدس بستیوں کی حفاظت پر آواز بلند کرنا خلیج کی جنگ کے دوران حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے تاریخی معرکہ آراء خطبات ارشاد فرمائے۔11 جنوری 1991ء کے خطبہ جمعہ میں حضور نے اس جنگ میں ارض حجاز اور مقدس بستیوں کو جو نقصان پہنچنے کا احتمال تھا اس پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔" آج صرف کویت کا مسئلہ نہیں ہے ، آج مسئلہ ان بستیوں کی حفاظت کا مسئلہ ہے۔ان بستیوں کے تقدس کی حفاظت کا مسئلہ ہے۔جن میں کبھی حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سانس لیا کرتے تھے۔وہاں آپ کے قدم پڑا کرتے تھے۔پس اسے بہت ہی تقدس کا رنگ دے کر عام مسلمانوں کے جذبات کو ابھارا جاتا ہے۔چنانچہ پاکستان کی طرف سے بار بار اسی قسم کے اعلان ہوئے ہیں کہ اب ہم نے ارض مقدس کی حفاظت کے لئے دو ہزار سپاہی بھجوا دیئے ، تین ہزار سپاہی بھجوا دئیے، پانچ ہزار سپاہی بھجوا دئیے اور ارض مقدس کے نام پر ہم یہ عظیم قربانی کر رہے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ارض کی اپنی تاریخ کیا ہے؟ اور وہ لوگ جو ارض مقدس کا نام لے کر اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے تقدس کے حوالے دے کر مسلمانوں کی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، ان کا اپنا کیا کردار رہا ہے؟ امر واقعہ یہ ہے کہ سعودیوں نے یعنی اس خاندان نے سب سے پہلے خود ارض حجاز پر بزور شمشیر قبضہ کیا تھا اور 1801ء میں سب سے پہلے یہ فوجی مہم شروع کی گئی اور اس خاندان کے جوسر براہ تھے ان کا نام عبدالعزیز تھا۔لیکن عبدالعزیز کے بیٹے سعود تھے جو دراصل بڑی بڑی فوجی کارروائیوں میں بہت شہرت اختیار کر گئے اور بڑی مہارت رکھتے تھے۔چنانچہ ان کی سربراہی میں ان حملوں کا آغاز ہوا۔سب سے پہلے انہوں نے عراق میں پیش قدمی کی اور کربلائے معلی پر قبضہ کیا وہاں کے تمام مقدس مزاروں کو ملیا میٹ کر دیا، یہ موقف پیش کرتے ہوئے کہ یہ سب شرک کی باتیں ہیں اور ان میں کوئی تقدس نہیں ہے، اینٹ پتھر کی چیزیں ہیں۔ان کو مٹادینا چاہئے اور پھر کر بلائے معلی میں بسنے والے مسلمانوں کا جواکثر شیعہ تھے قتل عام کیا اور پھر بصرہ کی طرف پیش قدمی کی اور کربلائے معلی سے لے کر بصرہ تک کے تقریباً تمام علاقے کو تاخت و تاراج کر کے وہاں شہروں کو آگئیں لگادی گئیں قتل عام کئے گئے ، لوٹ مار کی گئی۔ہر قسم کے مظالم جو آج عراق کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں ان سے بہت بڑھ کر ، بہت زیادہ وسیع علاقے میں اسی خاندان نے عراق کے علاقے میں کئے لیکن وہاں سے طاقت پکڑنے کے بعد پھر ارض مقدس کی طرف رخ