ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 270
270 قوتوں کو بروئے کار لے آئیں اور کلیۂ ان حملوں کو کچل کے اور نا کام اور نا مراد بنا کر دکھا دیں۔دوسرا پہلو ہماری ذمہ داری کا یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے آقا کی محبت میں جو دفاعی کارروائیاں کیں اور پھر ان کارروائیوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ان کے دفاع میں بھی ہم مستعد ہو جا ئیں اور ہمیشہ جس طرح کہ قرآن کریم فرماتا ہے سرحدوں پر اپنے گھوڑے باندھے رکھو۔جہاں حملہ ہو وہیں اس حملے کا جواب دیں اور آج بڑی شدت کے ساتھ ان دونوں پہلوؤں سے احمدیوں کو دفاع کی ضرورت ہے اور دفاع پر تیار ہونا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ کرتے ہوئے خوب غور سے دیکھیں کہ وہ حکمت عملی کیا تھی جس کے تابع آپ نے غیروں سے مقابلے کئے ہیں اور کیوں ان پر سختیاں کیں اور اس سختی کے اندر کون سی حکمتیں پوشیدہ ہیں اور اس کے ساتھ اس لٹریچر کا بھی مطالعہ کریں جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں ذکر ملتا ہے یا اس سے آشنا ضرور ہوں ، جس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کسی قدر سختی سے کام لیا۔اسی طرح جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اسلام کے متعلق تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اتنا دفاع عظیم الشان کر دیا ہے کہ اگر آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا وہ حصہ پڑھ لیں تو کوئی غیر اسلامی طاقت آپ پر غالب نہیں آسکتی۔ایسا خزانہ ہمارے سپرد کر دیا ہے آپ نے علموں کا کہ جس علمی خزانے کے بعد آپ کو کسی اور خزانے کی تلاش نہیں رہے گی۔اس پر آپ عبور حاصل کر لیں تو آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے اسلام کے دفاع کے لئے ایک عظیم الشان عالم بن کر ابھریں گے۔آپ کی شخصیت میں ایک حیرت انگیز علمی جلا پیدا ہو جائے گی۔" رشدی کی اسلام بارے پھبتیاں اور اسلامی تعلیم کا حسن ( خطبات طاہر جلد 8 صفحہ 647-656) حضور نے ایک خطبہ میں سلمان رشدی کے ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:۔"نماز میں جب آپ بعض بچوں کو یا بڑوں کو اس طرح دیکھتے ہیں تو صاف مطلب ہے کہ ان کو خدا کی حضوری کا تصورنہیں چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تفصیلی تعلیم دی ہے اس کا تمام تر اس حضوری سے تعلق ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک پاؤں پر بوجھ ڈال کر نہ کھڑے ہوں ( بخاری کتاب الاذان حدیث نمبر : 816) بلکہ سیدھے کھڑے ہوں اور رُشدی جیسے بد بخت ان باتوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کیسا مذہب ہے؟ چھوٹی چھوٹی تفصیل میں جاتا ہے حالانکہ جب تک یہ آداب سکھائے نہ جائیں آج بھی دنیا کی متمدن قومیں ان آداب کو خود نہیں سیکھ سکتیں جو ادب حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چودہ سو سال پہلے بتایا اور سکھایا جن قوموں کو وہ نہیں سکھایا گیا وہ آج بھی اسی طرح جاہل ہیں۔تہذیب بہت آہستہ رفتار سے ترقی کرتی ہے لیکن الہام دماغوں کو اور دلوں کو اور طرز زندگی کونئی روشنی بخشتا ہے اور اس روشنی سے استفادہ کرنا پھر قوموں کا کام ہے۔وہ اگر باہوش ہوں گی اور زندہ رہنے کی صلاحیت رکھیں گی تو اس روشنی میں لانا ضروری ہے ورنہ قومیں زندہ نہیں رہ سکتیں۔پس یہ چھوٹی چھوٹی