ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 272
272 کیا اور طائف پر قبضہ کر لیا ارض حجاز میں اور 1903ء میں یہ مکہ اور مدینہ میں داخل ہو گئے اور مکہ اور مدینہ میں داخل ہونے کے بعد وہاں قتل عام کیا گیا اور بہت سے مزار گرادیئے گئے اور بہت سی مقدس نشانیاں اور مقامات مثلاً حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مولد ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مولد وغیرہ اس قسم کے بہت سے مقدس حجرے اور مقامات تھے جن کو یا تو منہدم کر دیا گیا یا ان کی شدید گستاخی کی گئی اور یہ ظاہر کیا گیا کہ اسلام میں ان ظاہری چیزوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔یہ سب شرک ہے اور جو خون خرابہ ہوا ہے اس کا کوئی معین ریکارڈ نہیں لیکن تاریخیں یہ کھتی ہیں کہ بالکل نہتے اور بے ضرر اور مقابلے میں نہ آنے والے شہریوں کا بھی قتل عام بڑی بے دردی سے کیا گیا ہے۔1813ء میں شریفان مکہ نے پھر اس علاقے کو سعودیوں سے خالی کروالیا اور پھر بیسویں صدی کے آغاز میں دوبارہ سعودیوں نے ارض حجاز پر یلغار کی اور اس دفعہ انگریزوں کی پوری طاقت ان کے ساتھ تھی۔انگریزی جرنیل باقاعدہ ان کی پیش قدمی کی سکیمیں بناتے تھے اور انگریز ہی ان کو اسلحہ اور بندوقیں مہیا کرتے تھے اور انگریز ہی روپیہ پیسہ مہیا کرتے تھے۔اور باقاعدہ ان کے ساتھ معاہدے ہو چکے تھے چنانچہ 1924 ء میں دوبارہ سعودی خاندان ارض حجاز پر قابض ہوا اور اس قبضے کے دوران بھی بہت زیادہ مقدس مقامات کی بے حرمتی کی گئی اور قتل عام ہوا ہے۔1924ء میں انگریزوں کی تائید سے چونکہ یہ داخل ہوئے تھے اس لئے حال ہی میں جو BBC نے Documentry دکھائی اس میں 24 ء سے پہلے کی بھی انگریزی تائید کا ذکر کرتے ہوئے BBC کے پروگرام پیش کرنے والے نے یہ موقف لیا کہ جس ملک پر سعودیوں نے ہماری تائید سے اور ہماری قوت سے قبضہ کیا تھا اب اس ملک کے دفاع کے لئے ہم پر ہی انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔پس اس نقطہ نگاہ سے اگر دیکھا جائے تو بات بالکل اور شکل میں دکھائی دینے لگتی ہے۔جو بھی حکومت اس وقت مقامات مقدسہ پر قابض ہے وہ انگریز کی طاقت سے قابض ہوئی تھی یا مغربی قوموں کی طاقت سے قابض ہوئی تھی۔اور اب دفاع کے لئے بھی ان میں یہ استطاعت نہیں ہے کہ ان مقامات کا دفاع کرسکیں اور مجبور ہیں کہ ان قوموں کو واپس اپنی مدد کے لئے بلائیں۔اب انگریز کا تصور اس طرح کا نہیں جو اس سے پہلے کا تھا۔تمام دنیا پر اگر یز کی ایک قسم کی حکومت تھی۔اب انگریز اور امریکہ ایک دوسرے کے ساتھ مدغم ہو چکے ہیں۔ان کے تصورات یکجا ہو چکے ہیں اور عملاً جو امریکہ ہے وہ انگریز ہے اور جو انگریز ہے وہ امریکہ ہے۔یعنی جو انگلستان ہے وہ امریکہ ہے اور جو امریکہ ہے وہ انگلستان ہے۔تو اس پہلو سے انگریز نے اپنی تاریخ کا ورش امریکہ کے سپرد کیا ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس دور میں ان کے فیصلے ہمیشہ ایک ہوا کرتے ہیں۔یورپ اس سے کچھ مختلف ہے لیکن اس تفصیل میں جانے کی بہر حال ضرورت نہیں ہے۔خلاصہ کلام یہ بنتا ہے کہ ارض مقدس اور مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے احترام کی باتیں کرتے ہوئے جو عالم اسلام کو ان مقدس مقامات کے دفاع کے لئے اکٹھا کیا جارہا ہے یہ سب محض ایک دھوکہ ہے۔ان مقدس مقامات کی حفاظت کے