ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 269 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 269

269 سمجھ جائیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کونسی حکمت عملی استعمال فرمائی، کیوں تختی کی اور اس سختی کی بنیاد کیا ہے؟ بنیاد وہی ہے جس کا میں ذکر کر چکا ہوں۔عیسائی دنیا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاد پر حملہ آور ہوتی تھی اور اس کے علاوہ آپ کے ذاتی کردار پر حملہ آور ہوتی تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے یہ بات برداشت کرنا کسی طرح ممکن نہیں تھی۔ایسی شدید محبت تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے کہ آپ کی محبت میں آپ فنا تھے۔اس کے مقابل پر کوئی دوسری چیز آپ کو دکھائی نہیں دیتی تھی۔پس کیسے ممکن تھا کہ ایسے گندے اور شدید حملے دشمن کی طرف سے مسلسل کئے جاتے رہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خاموش رہیں۔۔۔۔۔حضرت مسیح موعود کے خلاف علماء کا فتویٰ بھی اسلام کی بدنامی کا موجب ہے مسلمان علماء نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جو حملے کئے ہیں وہ اسی جگہ کئے ہیں، انہی امور پر کئے ہیں جہاں آپ اسلام کے حق میں جہاد کر رہے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کر رہے تھے۔اس مضمون میں آگے بڑھ کر آپ دیکھیں کہ اس کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مسلسل عیسائیت سے نبرد آزما رہے اور عیسائیت کے متعلق کسی ایک جگہ بھی آپ نے یہ نہیں کہا کہ عیسائی قوم کی موجودہ حالت خدا کا سایہ ہے بلکہ اسے دجل کہا۔فرمایا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس دجال کی پیش خبریاں کی تھیں وہ اسی عیسائیت کے متعلق پیشگوئیاں تھیں جو آج عیسائیت کے عروج کی صورت میں دنیا میں ظاہر ہو چکی ہیں۔پس کیسی عظیم الشان حکمت عملی تھی کہ ایک ایسی حکومت کے سائے تلے جس کا ایک خاص مذہب تھا اس کو ناراض کئے بغیر اس کے مذہب پر شدید حملے کئے اور اسلام کا دفاع اس کے سائے میں اس طرح کیا کہ اس کو کوئی عذر نہ دیا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اسلام کے دفاع کی راہ میں حائل ہو سکے۔یہ عظیم الشان Strategy ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ اور زیادہ نمایاں اور روشن ہوتی چلی جائے گی۔اب اسی پہلو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت کے تقاضے کے طور پر آپ نے حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پر حملہ نہیں کیا لیکن اس تصور پر ضر ور حملہ کیا ہے جس تصور کی خود عیسائی عبادت کرتے تھے اور یہ بھی ایک ایسا عظیم الشان اور باریک فرق ہے جس کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں بہت سے مسلمان علماء خود بھی مشتعل ہوئے اور آج عیسائی دنیا کو احمدیت کے خلاف مشتعل کرتے ہیں۔۔۔۔۔جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں آج جماعت احمدیہ کے اوپر دو ذمہ داریاں ہیں۔اولین ذمہ داری یہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاد پر جو حملے کئے گئے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی متابعت میں مسلسل ان حملوں کے جواب دینے پر ہم مستعدر ہیں۔جہاں دنیا میں کوئی سلمان رشدی پیدا ہو وہاں ہزاروں مسیح موعود کے غلام ایسے کھڑے ہو جائیں جو اس کے حملوں کو رد کریں اور اسلام کے دفاع میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں اپنی تمام