ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 268 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 268

268 خطبہ جمعہ 6 اکتوبر 1989ء حضور نے رشدی کی بدنام زمانہ کتاب میں درج ایک الزام کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا کا جواب دیا۔آپ فرماتے ہیں۔رشدی اور دیگر مستشرقین کا اسلام پر خونریزی کرنے کا الزام حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں جماعت احمد یہ جو عالمی جہاد کر رہی ہے اس کا بڑا حصہ اسی میدان سے تعلق رکھتا ہے۔سلمان رشدی نے جو کچھ گند اُچھالا ہے یا اس سے پہلے دوسرے مستشرقین جو گند اچھالتے رہے ہیں ان میں نمایاں پہلو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار پر جبر کے الزام سے تعلق رکھتا ہے اور کس طرح آپ نے خونریزی سے کام لیا اور کس طرح آپ نے دشمنوں کو اپنی قوت بازو سے ذلیل ورسوا کر دیا اور پھر فتوحات کے بعد بہت سی ان کے نزدیک انتقامی کارروائیاں کیں۔بعض ان کے نزدیک ایسے غزوے بھی آپ کے ہوئے جن میں بظاہر دشمن کی طرف سے پہل نہیں تھی اور آپ نے دشمن کے مقابل پر بڑی شدت اختیار کی۔غزوہ خیبر ہے، اسی طرح مدینے میں یہود کے ایک قبیلے کو سزا دینے کا معاملہ ہے، یہ سارے معاملات وہ ہیں جو اسی میدان جہاد سے تعلق رکھتے ہیں جس کا میں نے ذکر کیا ہے اور جس پر بعد ازاں دشمن مسلسل حملہ کرتا چلا جاتا ہے اور وہ جہاد ایک نئی شکل میں بعد میں جاری ہو جاتا ہے۔انبیاء کی جماعتیں پھر اس دفاع میں مصروف ہوتی ہیں اور دشمن کے ہر حملے کو غلط اور بے معنی اور بے حقیقت دکھانے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔اسلام کی تمام جنگیں دفاعی تھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی بڑی شدت کے ساتھ یہ جہاد کیا تھا اور آپ پر جو حملے ہوئے وہ بھی اسی جہاد پر ہوئے ہیں۔اس مضمون کو آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاد کے تعلق سے ملا کر دیکھیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک عجیب کردار نظر کے سامنے اُبھرتا ہے۔آپ پر جتنے حملے ہوئے وہ اپنے آقاً کے جہاد کے دفاع کے میدان میں ہوئے ہیں اور سب سے زیادہ سخت حملے بد قسمتی سے خود مسلمان علماء نے آپ پر کئے۔چنانچہ اس کی مثال ایک یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آج دنیا میں حضرت مسیح کی ہتک کرنے والے کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اور عیسائی ممالک میں خصوصیت کے ساتھ ، بکثرت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وہ اقتباسات پھیلائے جارہے ہیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُن کے قول کے مطابق حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام پر بڑے سخت حملے کئے ہیں اور آپ کو نعوذ باللہ من ذالک ایک بد کردار انسان کے طور پر ظاہر کیا ہے۔یہ وہ میدان جہاد ہے جس کے متعلق کچھ روشنی ڈالنی ضروری ہے اور ایک فرق کر کے دکھانا ضروری ہے تاکہ جب بھی جماعت احمدیہ کو خصوصاً مغرب میں ایسے معاملات سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ اس حقیقت کو خوب اچھی طرح