ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 267 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 267

267 1۔۔۔۔۔۔چکے ہیں، اخلاقی آزادیوں کے قائل ہو چکے ہیں جسے عام اردو محاورے میں کہتے ہیں مادر پدر آزاد شخص۔تو اب نئی نسلوں میں خصوصاً مغرب میں مادر پدر آزادی کا ایک تصور قائم ہورہا ہے کیونکہ اسلام سے متنفر کرنے کے لئے ایک یہ بھی طریق ہے کہ کہا جائے کہ اسلام تو آپ کی روزمرہ کی آزادی میں دخل دیتا ہے۔آپ کوئی حرکت نہیں کر سکتے جب تک پہلے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لیں کہ یہ حرکت کیسے کرنی چاہئے؟ چنانچہ دا ئیں اور بائیں کا فرق، یہ چیزیں بھی اس نے تمسخر کے ساتھ بیان کی ہیں۔میں نے کہا میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ان کا فلسفہ کیا ہے تب آپ سمجھیں اور غور کریں تب آپ کو پتا چلے گا کہ کیسے مسلم بنتا ہے اور اس کے نتیجے میں آیا آپ کی آزادی پر حرف آتا ہے یا آپ کی روز مرہ کی زندگی میں سلاست اور صفائی اور پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔میں نے کہا آج کی دنیا، سائنس کی دنیا ہے اور یہاں سپیشلائزیشن (Specialisation) کے دور ہیں۔۔۔۔اسلام وہ مذہب ہے اور وہ شاندار مذہب ہے اور تمام مذاہب میں ایک ہے جس نے انسان کو سپیشلائزیشن سکھائی اور اسی میں مسلمان کا مسلمان ہونا دکھائی دیتا ہے۔یعنی مسلم ہے، اس سے آپ کو امن ہے، اس سے آپ کو کوئی خطرہ نہیں۔میں نے کہا جب میں آپ سے دائیں ہاتھ سے مصافحہ کرتا ہوں چونکہ میرے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا ہے کہ دائیں ہاتھ سے کوئی گندی چیز نہیں پکڑنی۔اس لئے میں آپ کے لئے ایک امین کے طور پر ہوں آپ کو مجھ سے کوئی خوف نہیں ہے۔آپ بے تکلفی سے ہاتھ بڑھا کر میرے دائیں ہاتھ کو تھام سکتے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ محمد مصطفیٰ کا غلام ہے لا زمانیہ ہاتھ صاف ہوگا لیکن آپ نے نہ دائیں کی تمیز سیکھی نہ بائیں کی تمیز سکھی۔ہو سکتا ہے آپ دائیں ہاتھ سے طہارت کر کے آئے ہوں، دائیں ہاتھ سے ناک صاف کیا ہو، دائیں ہاتھ سے کوئی گند اٹھایا ہو، کسی کتے کے منہ میں ڈالا ہو۔مجھے تو آپ سے کوئی امن نہیں ہے۔اخلاق کی خاطر اور تہذیب کی خاطر مصافحے تو میں کرتا ہوں لیکن واپس جا کر میں اس ہاتھ سے کھانا نہیں کھا سکتا جب تک اسے اچھی طرح صاف نہ کر لوں۔تو یہ ہے مقام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔آپ نے ہمیں انسانیت کی اعلیٰ اقدار سکھائی ہیں ، آپ نے ہمیں عظیم الشان تہذیب عطا کی ہے۔یہ جاہل اور بیوقوف اور سفلی لوگ اپنی کم نہی کی وجہ سے اگر ان باتوں پر ہنستے ہیں تو ان کو پہننے دو۔آپ امین بنائے گئے ہیں اور یہ ہے امانت کا مقام کہ کوئی شخص آپ سے خوف نہیں کھائے گا کیونکہ اس کی عزت آپ کے ہاتھوں میں محفوظ ہوگی ، اس کی شرافت آپ کے ہاتھوں میں محفوظ ہے، اس کا نام آپ کے ہاتھوں میں محفوظ ہے، اس کی ملکیت آپ کے ہاتھوں میں محفوظ ہے، اس کے بچے ، اس کی بیٹیاں ،اس کی بیوی،اس کے اور عزیز سارے آپ کے ہاتھوں میں محفوظ ہیں ، اس کی ملکیتیں ہر قسم کی آپ کے ہاتھوں میں محفوظ ہیں۔کوئی خطرہ آپ کی طرف سے نہیں ہے۔یہاں تک کہ ہاتھ سے ہاتھ جب ملاتا ہے تب بھی وہ جانتا ہے کہ محمد مصطفی کے غلام کے صاف ہاتھوں سے ہاتھ میں ملارہا ہوں مجھے اس سے بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔" خطبات طاہر جلد 8 صفحہ 290-292)