ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 6
6 شرابیوں " سے ہو گی۔کہیں آپ کو "مسلمان قمار باز ملیں گے۔کہیں "مسلمان سازندوں "اور "مسلمان گویوں "اور "مسلمان بھانڈوں" سے آپ دو چار ہوں گے۔بھلا غور تو کیجئے ، یہ لفظ مسلمان کتنا ذلیل کر دیا گیا ہے اور کن کن صفات کے ساتھ جمع ہو رہا ہے۔مسلمان اور زانی مسلمان اور شرابی، قمار باز مسلمان اور رشوت خور ! اگر وہ سب کچھ جو ایک کا فر کر سکتا ہے، وہی ایک مسلمان بھی کرنے لگے تو پھر مسلمان کے وجود کی دنیا میں حاجت ہی کیا ہے۔" ( مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوم صفحہ 28-29 زیر عنوان تحریک اسلامی کا تنزل) مودودی صاحب کے مزید تبصرے بھی سنیئے۔لکھتے ہیں۔آپ اس نام نہاد مسلم سوسائٹی کا جائزہ لیں گے تو اس میں آپ کو بھانت بھانت کا مسلمان نظر آئے گا۔مسلمان کی اتنی قسمیں ملیں گی کہ آپ شمار نہ کر سکیں گے۔یہ ایک چڑیا گھر ہے جس میں چیل، کوے، گدھ ، بٹیر، تیتر اور ہزاروں قسم کے جانور جمع ہیں اور ان میں سے ہر ایک " چڑیا " ہے۔" پھر لکھتے ہیں۔( مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوم صفحہ 31 زیر عنوان تحریک اسلامی کا تنزل) یہ انبوہ عظیم جس کو مسلمان قوم کہا جاتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے 999 فی ہزارافراد نہ اسلام کا علم رکھتے ہیں، نہ حق اور باطل کی تمیز سے آشنا ہیں ، نہ ان کا اخلاقی نقطہ نظر اور ذہنی رویہ اسلام کے مطابق تبدیل ہوا ہے ، باپ سے بیٹے اور بیٹے سے پوتے کو بس مسلمان کا نام ملتا چلا آ رہا ہے۔اس لئے یہ مسلمان ہیں۔" ( مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوم صفحه 130 ) غلام جیلانی برق نے لکھا۔"ہمارے ہر فرقے کا اسلام و قرآن الگ ہے۔ایک اسلام تو وہ ہے جو 14 لاکھ حدیثوں کے بوجھ تلے دبا کراہ رہا ہے۔دوسرا وہ جو مختلف فقہی سکولوں کے نرغے میں پھنسا بیچ نکلنے کے لئے فریاد بھی نہیں کر سکتا اور ایک تیسرا اسلام ہے حضرات اہل بیت کرام کے لکڑی اور کاغذ کے تعزیوں کے ساتھ بندھا ہوا کوچہ بازار میں سالانہ گردش کرتا نظر آتا ہے۔ایک چوتھا اسلام وہ ہے جو استخواں فروش مجاہدوں اور پیرزادوں کے حلقے میں حق ہو کے نعرے لگانے اور حال و قال کی بزم آرائی کے لئے مجبور ہے۔" حضرت شاہ ولی اللہ نے اسلام کی حالت کا یوں نقشہ کھینچا ہے۔" یہ سب راہزن ہیں، دجال ہیں، کذاب ہیں خود بھی دھو کہ میں ہیں اور دوسروں کو بھی دھوکہ دیتے ہیں۔" تجدید و احیاء دین از مودودی صفحه 107 ) نیز لکھا کہ ( دو اسلام صفحه 27) ہم یہود و نصاری کے قدم بقدم چل کر گمراہ ہو چکے ہیں" ( بحواله تجدید و احیاء دین از مودودی) محمد عاشق الہی بلند شہری نے لکھا کہ " آج دین اسلام پھر آغاز کی طرح اجنبیت کی طرف لوٹ چکا ہے" علامات قیامت کے بارے میں آنحضرت کی پیشگوئیاں صفحہ 15)