ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 266
266 استعمال کریں اور دنیا میں ایک شور مچادیں وہ شور جو ان کی آوازوں کو مزید بلند کرنے کا موجب نہ بنیں بلکہ ان کی آوازں کو اس طرح دبا دینے کا موجب بنیں کہ کسی بے غیرت کو آئندہ کے لئے اسلام پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہو۔مسلم علماء، ان پڑھ اور معصوم مسلمانوں کو جذباتیت سے ابھار کر گلیوں میں نکالتے ہیں جو اپنے ہی سپاہیوں کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں ایک اور پہلو اس مضمون کا یہ ہے جس سے مجھے بہت تکلیف ہے کہ مسلمان علماء بھی اور بعض سیاسی لیڈر بھی جذباتیات کو ابھار کر بعض مسلمان عوام کو جو لا علم ہیں جن کو پتا نہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ان کو گلیوں میں نکالتے ہیں اور خود اپنے ہی اہل ملک کے سپاہیوں کی گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ایسے واقعات اسلام آباد میں بھی ہوئے ، کراچی میں بھی ہوئے ، بمبئی میں بھی ہوئے ، دوسرے ملکوں میں بھی ہوئے اور بہت سے مسلمان ہیں جو اس دینی غیرت کی وجہ سے شہید ہو گئے ہیں۔یہ درست ہے کہ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔اس قسم کے خطرناک اور بیہودہ رو عمل کی اجازت نہیں دیتا لیکن یہ بھی درست ہے کہ جن لوگوں نے اپنی جانیں فدا کیں ہیں ان کو ان باتوں کا کوئی علم نہیں، ان کی اکثریت بالکل معصوم ہے۔اور صرف حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت پر حملہ ہوتے ہوئے انہوں نے زندہ رہنا پسند نہیں کیا۔وہ گلیوں میں پلنے والے عام غریب اور مزدور لوگ تھے لیکن حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دین کی غیرت رکھنے والے تھے۔" خطبات طاہر جلد 8 صفحه 135-153) خطبہ جمعہ 5 مئی 1989 ء حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے 5 مئی 1989ء کو اپنے خطبہ جمعہ میں سلمان رشدی کی کتاب کے حوالہ سے ڈنمارک کے صحافیوں کے ایک انٹرویو کا ذکر فرمایا۔جس میں حضور نے اسلام کی حسین تعلیم کو نہایت آسان پیرا یہ میں اور بڑے احسن انداز میں بیان فرمایا۔آپ فرماتے ہیں رشدی کے غلیظ ناول کے سلسلہ میں ڈنمارک کے ایک صحافی کا انٹرویو چند دن ہوئے سلمان رشدی کے غلیظ ناول کے سلسلے میں ایک ڈنمارک سے آنے والے صحافی نے میرا انٹرویو لیا۔ضمنا بہت لمبا انٹرویو تھا آج انہی کے ساتھی آئے ہیں اور وہ تصویریں کھینچ رہے ہیں۔اس ضمن میں اسلام کی امانت کی بات بھی آئی اور اسلام کی سلامتی کی بات بھی آئی۔میں نے اس سے کہا کہ یہ ایسا جاہل انسان ہے اور مغرب کی لاعلمی اور جہالت سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔یہ کہہ کر کہ اسلام میں پابندیاں بہت ہیں۔اسلام یہ بھی بتاتا ہے کہ دائیں ہاتھ سے یہ کرو اور بائیں ہاتھ سے وہ کرو اور یہ تفریق کرتا ہے اور ایسی ایسی بار یک باتوں میں دخل دیتا ہے کہ کسی انسان کے لئے زندگی اجیرن ہو جائے ، یہ کیا مذہب ہے یہ تو مصیبت ہے۔یہ تاثر آزاد منش مغرب کے ذہن پر جب نقش ہوتا ہے تو اسلام کو قبول کرنے کی راہ میں شدید تر ڈر پیدا ہو جاتا ہے۔کیونکہ یہ لوگ فرضی آزادیوں کے قائل ہو