ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 264 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 264

264 میں علی کی مددکو نہیں آئے گا لیکن خدا کی قسم تمہارا یہ خیال جھوٹا ہے۔یہ عالم اسلام کی غیرت کا معاملہ ہے۔اگر تم نے اس حملے کی جرات کی تو وہ سپاہی جو علی کی طرف سے لڑنے والے ہوں گے ان میں صف اوّل پہ معاویہ کھڑا ہوگا اور معاویہ کی ساری طاقتیں علی کی خدمت میں پیش کر دی جائیں گی۔تاریخ اسلام حصہ دوم صفحہ 45، 46 مصنفہ مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی) یہ اتنا عظیم الشان خط تھا، اتنا اس کا رُعب طاری ہوا کہ کسی لڑائی کی نوبت نہیں آئی اور دشمن نے فیصلہ کیا کہ وہ عالم اسلام جو اپنے سیاسی مقاصد میں اور مذہبی مقاصد میں اس طرح متحد ہونے کی طاقت رکھتا ہے اس پر کوئی حملہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔حرمت رسول کے دفاع کے لئے عالم اسلام کو مشاورت کا مشورہ آج افسوس ہے کہ تاریخ کے اس سنہری باب کو بھلایا جارہا ہے۔آج مسلمانوں کی اندرونی دشمنیاں اس بات کی راہ میں حائل ہو رہی ہیں کہ اسلام کے خلاف شدید ترین اور غلیظ ترین حملوں کے مقابل پر بھی اکٹھے ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔پس ایک ایسی عالمی مشاورت کے بلانے کی ضرورت ہے۔جو خواہ ملکہ یا مد ینہ میں بلائی جائے یا اسلام آباد پاکستان میں بلائی جائے یا ایران میں بلائی جائے یا دنیا کے کسی اور خطے میں بلائی جائے۔کوئی بلانے والا ہوا ور کوئی وہ مقام ہو جہاں اکٹھا ہونے کی دعوت دی جائے۔آج خدا اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت کا تقاضا ہے کہ تمام عالم اسلام لبیک لبیک کہتے ہوئے اس مقام پر اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے اکٹھا ہو جائے اور یہ فیصلہ کرے کہ کس طرح ہم نے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت اور عزت کا دفاع کرنا ہے اور اس راہ میں جو بھی تعلیم قرآن کریم نے ہمیں دی ہے اس تعلیم کے اندر رہتے ہوئے دفاع کرنا ہے اس سے ایک قدم باہر نکال کر دفاع نہیں کرنا۔معاندین کی رائے کو قرآنی تعلیم کے ذریعہ اپنے حق میں تبدیل کیا جاسکتا ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے قرآن کریم کی تعلیم نہایت جامع اور مانع ہے۔اس رنگ میں آپ کو دفاع کی ہدایت دیتی ہے کہ دشمن نے جو ہتھیار اپنار کھے ہیں وہ دشمن کے ہاتھ سے چھینے جائیں گے۔جس طرح تلواروں کے مقابلے میں بعض تلوار کے دھنی اس طرح حملہ کرتے ہیں کہ دشمن کے ہاتھ کی تلوار ہاتھ سے چھنک کر گر جایا کرتی ہے۔یہ رائے عامہ کی جو تلوار انہوں نے اٹھا رکھی ہے اگر آپ قرآنی حکمت کے دائروں میں رہتے ہوئے جوابی کارروائی کریں تو ان کے ہاتھ کی یہ تلوار جھٹک کر گر جائے گی۔آپ آج نہتے نظر آتے ہیں، قرآن کی طاقت سے یہ تلوار آپ کے ہاتھ میں تھمائی جائے گی اور دنیا کی ساری رائے عامہ کو آپ مرعوب اور مجبور کر سکتے ہیں یہ بات ماننے پر کہ اسلام مظلوم ہے اور اسلام کے خلاف جو دشمن حملہ آور ہیں ان کو ان حملوں کا کوئی حق نہیں ہے۔اسلامی تعلیم کے اندر رہنے میں ہی ساری عالم اسلام کی طاقت ہے لیکن اسلامی تعلیم سے باہر نکل کر اور بکھر کر انفرادی طور پر وہ جوابی کارروائیاں