ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 263
263 تو سعودی عرب اگر چاہے آج بھی یہ کر سکتا ہے۔مغربی ممالک کے بڑے بڑے اخبار خریدے اور ان میں سلمان رشدی والے کیس کے متعلق اسلام کے حملوں کا جواب شروع کرے اور دنیا کو بتائے کہ یہ سب دھوکہ بازی ہو رہی ہے حقیقت حال یہ ہے کہ اسلام پر نہایت ظالمانہ حملہ کیا گیا ہے اور حملے کی وہ زبان بے شک نہ شائع کی جائے لیکن جس طرح کہ میں نے بیان کیا ہے ہر اس پہلو سے جس پہلو سے انہوں نے اسلام پر حملہ کیا ہے ایک جوابی کارروائی کی جاسکتی ہے اور مؤثر جوابی کارروائی جاسکتی ہے۔افسوس رسول کریم پر حملے کی غیرت بھی مسلمانوں کو اکٹھا نہیں کر سکی لیکن حالت یہ ہے کہ بدقسمتی سے آج عالم اسلام مختلف حصوں میں بٹا ہوا ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملے کی غیرت بھی ان کو اکٹھا نہیں کر سکتی۔کیونکہ ایران کے امام خمینی صاحب نے ایک غلط فتویٰ دیا اس سے یہ نتیجہ تو نہیں نکالا جا سکتا کہ اس سارے معاملے میں ان کا ساتھ چھوڑ دیا جائے لیکن ان کے معاملے میں مغرب تو ایک ایسی متحدہ کارروائی کرتا ہے کہ یورپ کے بارہ سفیر آن واحد میں واپس بلا لئے جاتے ہیں اور امریکہ ان کی پشت پناہی کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے اور کھلم کھلا اعلان کرتا ہے، کوئی پرواہ نہیں کرتا کہ اس سے عالم اسلام کے دلوں پر کیا بُرا اثر پڑے گا اور یہاں حال یہ ہے کہ کیونکہ ثمینی نے یہ فتویٰ دے دیا ہے بجائے اس کے کہ فتوے کو ر ڈ کر کے دیگر معاملات میں ان کے ساتھ ہونے کا اعلان کرتے اور کہتے کہ تم نے اگر خمینی پر اس وجہ سے کوئی حملہ کیا تو ہم اس معاملے میں خمینی کے ساتھ ہوں گے کیونکہ اگر سیاست کی جنگ ہے یہ تو پھر سیاسی طور پر ہماری دنیا، مسلمانوں کی دنیا سے الگ نہیں کی جاسکتی اور اگر یہ مذہبی حملہ ہے تو مذہبی طور پر ہم ویسے ہی مسلمان ہیں تم جانتے ہو۔اسلام کی غیرت ہمیں ایسی جگہ اکٹھے کئے ہوئے ہے جہاں سے ہم کسی قیمت پر الگ نہیں کئے جاسکتے۔تاریخ اسلام کے ایک واقعہ سے آج تمام مسلمانوں کو سبق لینا چاہئے مگر افسوس کہ اس معاملے میں بعض عرب ممالک نے نہایت ہی نامناسب رد عمل کا اظہار کیا ہے۔اس سے مجھے یہ واقعہ یاد آ گیا کہ تاریخ اسلام میں سنہری حروف سے لکھنے کے لائق ہے۔ایک موقع پر شام کے شمال کی طرف سے ( مجھے اب معین یاد نہیں کہ کس سرحد سے لیکن شمالی سرحد کی بات ہے) عیسائی طاقتوں نے حضرت علی کی حکومت پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس زمانے میں امیر معاویہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے درمیان آپس میں شدید اختلافات تھے۔اس لئے اس زمانے کی عیسائی طاقتوں نے یہ سمجھا کہ اگر ہم علی کی حکومت پر حملہ کریں گے تو معاویہؓ اگر ان کے خلاف ہمارے ساتھ شامل نہ بھی ہو تب بھی ان کے حق میں کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔چنانچہ ایک لمبے عرصے تک مسلمانوں کی شمالی سرحدوں پر مخالفانہ فوجوں کا اجتماع ہوتا رہا۔جب امیر معاویہؓ کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے قیصر روم کے نام ایک خط لکھا اور اس خط میں لکھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ علی کی حکومت کو کمزور سمجھتے ہوئے تم نے علی کی حکومت پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور تم یہ سمجھتے ہو کہ معاویہ اور علی کی دشمنی ہے اس لئے معاویہ اس صورت