ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 262 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 262

262 کے میدان میں ایک دفاعی جنگ بڑی شدت کے ساتھ شروع ہو جاتی۔کتابیں لکھوائی جاسکتی تھیں، اخباروں سے جو طاقتور اخبار ہیں ایسے تعلقات قائم کئے جاسکتے تھے اقتصادی دباؤ کے نتیجے میں کہ وہ اخبارات از خود مسلمانوں کے نقطہ نگاہ کو خوب عمدگی کے ساتھ ، وضاحت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرتے۔دنیا کے معاملات میں سیاست کے معاملات میں لوگ اخبارات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور بعض دفعہ ان کو خرید بھی لیتے ہیں اگر وہ تعاون نہ کریں۔یہیں انگلستان کی بات ہے کہ اُنیسویں صدی کے آخر پر 1888ء یا اس کے لگ بھگ ایک پارسی ، ہندوستان کے پارسی کو خیال آیا کہ میں انگلستان کی پارلیمنٹ کا ممبر بنوں چونکہ وہ بڑے اچھے مقرر اور بہت اچھے لکھنے والے اور انہی کی یو نیورسٹیوں سے پڑھے ہوئے تھے۔ان کا خیال تھا کہ میرے علم سے متاثر ہوکر مجھے لوگ ووٹ دیں گے اور میں جیت جاؤں گا۔اپنے متعلق ان کی یہ حسن ظنی درست تھی لیکن وہ وہم غلط تھا کہ یہ قوم ان کو یہ کرنے دے گی۔کیونکہ آج کل تو ایسی باتیں عام ہیں لیکن اس زمانے میں یہ سوچنا کہ انگلستان کی پارلیمنٹ میں ایک ہندوستان کا کالانمائندہ بن جائے یہ ایک بہت بعید کی بات تھی۔چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ جب انہوں نے اپنے الیکشن میں کھڑے ہونے کا اعلان کیا تو تمام اخبارات نے ان کی خبروں کا بائیکاٹ کر دیا۔کوئی بھی خبر شائع نہیں کرتا تھا۔کیونکہ وہ بہت بڑا دولت مند گھر تھا۔یعنی پارسیوں کا جو گھر تھا مجھے اس وقت ان کا نام یاد نہیں لیکن بہت دولت مند لوگ تھے انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ انگلستان کا سب سے زیادہ چھپنے والا اور با اثر اخبار خرید لیا جائے۔چنانچہ وہ پہنچے ایک اخبار کے پاس اور اس سے کہا کہ تمہارے شیئر ز بکتے ہیں تو ہم حاضر ہیں خریدنے کے لئے۔اتنے شیئر ز خرید لئے سارا اخبار نہیں خریدا وہ بھی تاجر لوگ تھے لیکن اس کے نتیجے میں بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ان کو اکثریت حاصل ہوگئی۔چنانچہ اس دن کے بعد اس اخبار نے مسلسل ان کے حق میں لکھنا شروع کیا اور ان کی خبریں دینی شروع کیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ سترہ ووٹوں سے یہ جیت گئے۔اس زمانے میں اس کا اتنا شدید رد عمل ہوا کہ ایک ہندوستانی آکر ہم سے یہ حرکت کر جائے ، ہماری پارلیمنٹ کا ممبر ، ہمارے علی الرغم بن جائے ، ہمارے اخبار خرید کر۔انہوں نے یعنی مخالف پارٹی نے ، جو امیدوار تھے انہوں نے مقدمہ کیا اور کہا کہ ووٹوں کی گنتی میں غلطی ہوئی ہے اس لئے دوبارہ گنے جائیں۔چنانچہ عدالت نے بڑی احتیاط کے ساتھ جب دوبارہ ووٹ گنے تو ان کو سترہ کی بجائے بائیس ووٹوں کی اکثریت حاصل ہوئی۔تو دنیا کی خاطر اپنے سیاسی مفادات کی خاطر لوگ یہ حرکتیں کرتے ہیں اور یہ جائز ہیں ان میں کوئی برائی نہیں۔کوئی دنیا کا معقول آدمی ایسے طرز عمل پر حملہ نہیں کر سکتا۔باقی ممالک کو چھوڑ میں سعودی عرب کے پاس اتنا روپیہ ہے کہ چاہے تو سارے انگلستان کے اخبار خرید لے اور اس کو پتا بھی نہ لگے کہ میری دولت میں کوئی کمی آئی ہے۔اتنا روپیہ ہے کہ اپنے سود سے وہ ان کے اخبار خرید سکتا ہے اور اتنی رقم قائم کرسکتا ہے جیسا کہ میں نے کہا ہے اقتصادی قومیں ہیں ، اقتصادی مفادات کے پیچھے چلنے والی قومیں ہیں جو مرضی دوسرے محرکات ہوں اگر اقتصادی فوائدان محرکات کے مقابل پر زیادہ اہم دکھائی دیں تو یہ لازماً اقتصادی مفادات کی پیروی کرنے والے لوگ ہیں۔